1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ترکی نے جرمن اراکین پارلیمان کو فوجی بیس پر آنے کی اجازت دے دی

ترک حکومت نے جرمن اراکین پارلیمان کو اپنے ملک میں واقع ایک فوجی بیس کا دورہ کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ نیٹو کا اینجرلِک فوجی بیس ترکی میں واقع ہے اور وہاں جرمن ٹورناڈو طیارے اور فوجی بھی تعینات ہیں۔

جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر شٹائن مائر نے ترک حکومت کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے کہ جرمنی کی دفاعی کمیٹی کو اس فوجی اڈے کا دورہ کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا، ’’ یہ فوج پارلیمان کی ہے اور اراکین پارلیمان کو ان سے ملنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ ترک حکومت کے اس فیصلے کے ساتھ ہم ایک قدم مزید آگے کی طرف آئے ہیں۔‘‘

ابتدائی اطلاعات کے مطابق جرمن اراکین پارلیمان کو چار سے چھ اکتوبر کے درمیان اس فوجی اڈے پر جانے کی اجازت دی گئی ہے۔

ترکی اور جرمنی کے مابین یہ تنازعہ اس وقت کھڑا ہوا تھا، جب جرمن پارلیمان نے سلطنت عثمانیہ کے دور میں آرمینیائی شہریوں کی ہلاکتوں کو نسل کشی قرار دیا تھا۔ اس کے جواب میں ترکی نے جرمن اراکین کے اینجرلِک فوجی بیس میں داخلے پر پابندی عائد کر دی تھی۔

ترکی کا موجودہ فیصلہ جرمنی کی وفاقی حکومت کے جمعے کے روز کیے گئے اس اعلان کے بعد آیا ہے، جس میں جرمن حکومت نے کہا تھا کہ آرمینیا کے حوالے سے منظور کی گئی قرارداد کی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ قبل ازیں جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے جی ٹوئنٹی کانفرنس میں ترک صدر رجب طیب ایردوآن سے ملاقات کی تھی، جس کے بعد انہوں نے کہا تھا کہ آنے والے دنوں میں ترکی کی طرف سے مثبت جواب سامنے آنے کی امید ہے۔

یاد رہے کہ اینجرلِک میں جرمن جاسوس طیارے ٹورناڈو داعش کے خلاف قائم کیے گئے بین الاقوامی اتحاد کا حصہ ہیں۔ یہ طیارے شام اور عراق میں جاری امریکی کارروائیوں کو مدد فراہم کرتے ہیں۔ ترکی کی طرف سے انکار کے بعد جرمنی کے چند اراکین پارلیمان نے کہا تھا کہ جرمن فوجیوں کو واپس بلا لیا جائے۔

اس وقت جرمنی کی ماحول دوست گرین پارٹی کے دفاعی شعبے کے ماہر تھوبیاس لنڈنر نے جرمن اخبار ’بلڈ‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے برلن حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اینجرلِک کی چھاؤنی میں تعینات جرمن دستوں کی رہائش اور دیکھ بھال کے منصوبوں میں توسیع کرنے کے اپنے فیصلے پر فوری طور پر نظر ثانی کرے۔ ان کا کہنا تھا، ’’اگر ترکی ہمارے سیاستدانوں کو ہمارے ہی فوجی دستوں سے ملنے کی اجازت نہیں دے گا تو جرمن فوج کو بھی ٹیکس کی رقوم سے چھاؤنی پر خرچ کرنے کو کوئی ضرورت نہیں۔‘‘