1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ترکی نے اسرائیلی سفیر بے دخل کر دیا

ترکی کی طرف سے اسرائیلی سفیر کی ملک سے بے دخلی کے اعلان کے بعد اسرائیلی حکومت نے اپنے باقاعدہ ردعمل سے پہلے کابینہ کی سطح پر مشاورت کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

default

ترک وزیر خارجہ احمد داؤد اوگلو

انقرہ حکومت نے یہ اعلان  غزہ جانے والے فریڈم فلوٹیلا پر اسرائیلی کمانڈوز کی خونریز کارروائی کے بارے میں اقوام متحدہ کی تحقیقاتی رپورٹ کے کچھ مندرجات سامنے آنے کے بعد کیا ہے۔ مزید بتاتے ہیں۔

اسرائیل میں نیتن یاہو حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ انقرہ حکومت کے اس اعلان کے بعد مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔ ترک حکومت  نے گزشتہ برس غزہ پٹی کی طرف جانے والے امدادی قافلے پر اسرائیلی کمانڈوز کے حملے سے متعلق اقوام متحدہ کی تحقیقاتی رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ کی اسرائیلی ناکہ بندی جائز ہے۔ گزشتہ روز اس رپورٹ کے کچھ مندرجات منظر عام پر آنے کے بعد انقرہ حکومت کی طرف سے شدید ردعمل ظاہر کیا گیا ہے۔ آج جمعہ کو ترک صدر عبداللہ گل نے اپنے ایک نشریاتی پیغام میں اقوام متحدہ کی اس رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے مسترد کیا اور کہا کہ ان کے لیے اس رپورٹ کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔

Mavi Marmara Gaza Flotte NO FLASH

غزہ امدادی قافلے پر اسرائیلی کمانڈوز کے حملے کے بعد سے ترکی اور اسرائیل کے سفارتی تعلقات کشیدہ ہیں

اقوام متحدہ کی اس رپورٹ میں امدادی  بحری جہازوں کے قافلے پر اسرائیلی کارروائی کو ’حد سے متجاوز‘ اور ’حالات سے مطابقت نہ رکھنے والی‘ کارروائی قرار دیا گیا ہے۔ اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیل کو اپنے اس عمل پر معافی مانگنی چاہیے اور مرنے والوں کے لواحقین کو زر تلافی ادا کرنا چاہیے۔ رپورٹ میں یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ترکی اور اسرائیل کو اپنے سفارتی تعلقات کو ایک مرتبہ پھر معمول پر لے آنا چاہیے۔

ترک حکومت اسرائیل کے ساتھ عسکری معاہدوں پر عملدرآمد کو فی الوقت معطل کر چکی ہے۔ ترک وزیر خارجہ احمد داؤد اوگلو نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ترک حکومت غزہ کی ناکہ بندی کو ناجائز تصور کرتی ہے۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ اس معاملے پر بین الاقوامی فوجداری عدالت ICC سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔

31 مارچ 2010ء کو غزہ کے لیے بحری امدادی قافلے پر اسرائیلی کمانڈوز کی خونریز  کارروائی کے نتیجے میں 9 ترک امدادی کارکن مارے گئے تھے۔ ترک حکومت کا مطالبہ ہے کہ اس حملے پر اسرائیل سرکاری طور پر معافی مانگے تاہم اسرائیل ایسا کرنے سے انکاری ہے۔ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ اس کے فوجی کمانڈوز نے یہ کارروائی اپنے دفاع میں کی تھی۔

سمندری پانیوں میں غزہ فریڈم فلوٹیلا پر اسرائیلی کمانڈوز کے اس حملے کے بعد ترکی نے اسرائیل متعینہ اپنے سفیر کو فوری طور پر واپس بلا لیا تھا اور ساتھ ہی کئی فوجی معاہدے بھی معطل کر دیے گئے تھے۔

اسی دوران غزہ میں فلسطینی تنظیم حماس کے کارکنوں نے ترکی سے اسرائیلی سفیر کی بے دخلی کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ حماس کے ترجمان سمیع ابو زہری نے خبر ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ انقرہ حکومت کے اس فیصلے سے اندازہ ہوتا ہے کہ غزہ کی ناکہ بندی ناجائز ہے اور اسرائیلی حکومت جرائم کی مرتکب ہو رہی ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس