1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ترکی: ناکام بغاوت، ایردوآن اور ’عدلیہ کی صفائی‘

ترکی نے گزشتہ برس کی ناکام فوجی بغاوت سے تعلق کے شبے میں مزید سو سے زائد ججوں اور سرکاری وکلاء کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا ہے۔ ایردوآن حکومت نے تئیس ججوں اور وکلا کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے ہیں۔

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق ترک حکومت نے سرکاری اداروں میں ’صفائی کا عمل‘ جاری رکھتے ہوئے اب ملکی عدلیہ میں تعینات مزید ایک سو سات ججوں اور سرکاری وکلاء کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق دو ججوں کو ان کی عدالت سے ہی گرفتار کر لیا گیا۔

پوٹن ایردوآن ملاقات، ساری کدُورتیں جاتی رہیں

گزشتہ برس ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کے بعد ایردوآن حکومت نے سرکاری اور نجی اداروں میں کام کرنے والے ایسے تمام افراد کو ان کے عہدوں سے ہٹانے کا عمل شروع کر رکھا ہے، جو حکومت کے مطابق گولن تحریک سے وابستہ ہیں یا فتح اللہ گولن کے حامی ہیں۔

ایردوآن اپنی حکومت کے خلاف بغاوت کی اس کوشش کا الزام امریکا میں مقیم ترک مذہبی رہنما فتح اللہ گولن پر عائد کرتے ہیں۔ فتح اللہ گولن، جو ماضی میں ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے اہم اتحادی بھی رہے ہیں، ایسے الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔

ملکی عدلیہ میں بھی ’صفائی‘ کا موجودہ عمل اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ترک نیوز ایجنسی انادولو کے مطابق حکومت نے تئیس افراد کی گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری کیے ہیں۔ ان تئیس افراد میں سے سترہ افراد ملکی عدلیہ میں جج کے عہدے پر فائز ہیں جب کہ باقی چھ سرکاری وکیل ہیں۔

ایردوآن نے بغاوت ناکام ہونے کے بعد ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی تھی اور تب سے لے کر اب تک سوا چار ہزار سے زائد ججوں اور استغاثہ کے وکیلوں کو ان کے عہدوں سے ہٹایا جا چکا ہے۔

علاوہ ازیں دیگر سرکاری اداروں میں کام کرنے والے ایک لاکھ سے زائد ترک شہریوں کو بھی ایسے ہی الزامات عائد کرتے ہوئے ملازمتوں سے برخواست کیا جا چکا ہے۔ انقرہ حکومت گولن تحریک سے تعلق کے شبے میں سینتالیس ہزار سے بھی زیادہ سرکاری افسروں کو گرفتار کر کے ان سے تحقیقات بھی کر چکی ہے۔

ترکی میں سزائے موت سے متعلق ریفرنڈم ، جرمنی میں پولنگ ناممکن

DW.COM