1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ترکی میں 42 صحافیوں کے وارنٹ گرفتاری

ترکی کے ذرائع ابلاغ کے مطابق ترک حکام نے اکتیس ماہرہن تعلیم کو حراست میں لے لیا ہے اور بیالیس صحافیوں کی گرفتاری کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔

Türkei Türkischen Präsident Tayyip Erdogan nach der Pressekonferenz

صدر ایردوان نے گزشتہ ہفتے ملک میں تین ماہ کی ایمرجنسی کا اعلان کیا تھا

ترکی میں ایک ناکام فوجی بغاوت کے بعد یہ اقدام ایک متنازعہ کریک ڈاؤن کے تحت ان افراد کے خلاف اٹھایا جا رہا ہے جن کے بارے مین انقرہ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ امریکا میں مقیم ترک مبلغ فتح اللہ گولن کے حامی ہیں۔ ترک حکومت فوجی بغاوت کا الزام فتح اللہ گولن پر عائد کرتی ہے۔

ترکی کے سرکاری خبر رساں ادارے انادولو کے مطابق جن صحافیوں کے خلاف پوچھ گچھ کے لیے وارنٹ جاری کیے گئے ہیں ان میں ایک نام ممتاز قلم کار نازلی لیکاک کا بھی ہے جو صدر طیب ایردوان کے ناقدین میں سے ہیں۔ لیکاک نے ترک عالم فتح اللہ گولن کی تحریک کو کچلنے کےخلاف صدر ایردوآن کی مخالفت کی ہے۔ دوسری جانب گولن نے اس فوجی بغاوت میں کسی بھی طور ملوث ہونے سے انکار کیا ہے جس میں قریب 290 افراد ہلاک ہوئے تھے اور جسے صدر ایردوآن کی وفادار فورسز اور حکومت نواز مظاہرین نے کچل دیا تھا۔ خبر رساں ایجنسی انادولو کے مطابق اب تک پانچ صحافیوں کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔

ترک صدارتی دفتر کے ایک سینیئر عہدیدار کی طرف سے غیر ملکی میڈیا کو بھیجے جانے والے ایک ٹیکسٹ میسج میں کہا گیا ہے، ’’استغاثہ نے ان صحافیوں کو فوجی بغاوت کے منصوبے سے متعلق سوالات کے لیے حراست میں لینے کی درخواست کی تھی۔ یہ گرفتاریاں ان کی صحافتی سر گرمیو‌ں کے حوالے سے نہیں بلکہ ممکنہ مجرمانہ طرز عمل کے تناظر میں کی گئی ہیں۔‘‘ یہ بات اس سینیئر عہدیدار نے ترک حکومت کے قواعد و ضوابط کے مطابق نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتائی۔

Fethullah Gulen

گولن نے فوجی بغاوت میں کسی بھی طور ملوث ہونے سے انکار کیا ہے

حکومت نواز اخبار’ صباح‘ کے مطابق مطلوبہ صحافیوں کی فہرست میں ایک اخبار کے ایڈیٹر ایرکان اکر اور ایک نیوز شو کے میزبان ایرکن اکوس بھی شامل ہیں۔ حکام کو مطلوب ایک اور صحافی حانیم بصرہ ایردل ہیں۔ ایردل سابق کالم نگار اور زمان اخبار کے رپورٹر ہیں۔ اس اخبار کو رواں برس مارچ میں گولن کی تحریک کے ساتھ روابط ہونے پر حکومت نے اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔

انادولو کی رپورٹ کے مطابق اکتیس ماہرین تعلیم کو استنبول اور چار دوسرے صوبوں میں پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا ہے، جن میں زیادہ تعداد پروفیسروں کی ہے۔ سکیورٹی حکام نے استنبول میں قائم فوج کی وار اکیڈمی پر بھی چھاپہ مارا ہے اور وہاں سے چالیس افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ گزشتہ ہفتے ترک حکومت نے ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کرتے ہوئے ناکام فوجی بغاوت کے تناظر میں فوج، عدلیہ اور دیگر اداروں سے لگ بھگ تیرہ ہزار افراد کو حراست میں لے لیا تھا۔

DW.COM