ترکی میں گرفتاریوں اور معطلیوں کا سلسلہ آخر کہاں رُکے گا؟ | حالات حاضرہ | DW | 22.07.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ترکی میں گرفتاریوں اور معطلیوں کا سلسلہ آخر کہاں رُکے گا؟

ترکی میں گزشتہ ہفتے کی ناکام فوجی بغاوت اور پھر ہنگامی حالت کے نفاذ کے بعد گرفتاریوں، سرکاری اہلکاروں کی برطرفیوں اور معطلیوں کا سلسلہ جاری ہے لیکن بعض حلقے یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آخر یہ سلسلہ کہاں جا کر رکے گا؟

Türkei Istanbul Verhaftungen Soldaten Polizei Gewalt

ترک پولیس کے اہلکار ناکام بغاوت میں ملوث فوجیوں کو گرفتار کر کے لے جا رہے ہیں

اسی دوران ترک صدر رجب طیب ایردوان کے ایک برطانوی خبر رساں ادارے کو دیے گئے اس انٹر ویو کو بھی انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، جس میں انہوں نے فوج کی ازسر نو تنظیم کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

صدر ایردوان کا کہنا تھا کہ فوج کی تنظیم نو سے اسے ’نوجوان خون‘ مہیا ہو گا۔ اس سلسلے میں ان کا کہنا تھا کہ فوج کی اعلیٰ کونسل کا یکم اگست کو وزیر اعظم کی سر براہی میں ہونا والا اجلاس اپنے مقررہ وقت سے قبل بھی منعقد کیا جا سکتا ہے۔

ترکی کے صدر کا یہ انٹرویو ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب ناکام فوجی بغاوت کے بعد فوج کے سات ہزار سے زائد افسران اور اہلکار حراست میں لیے جا چکے ہیں جن میں جنرل رینک کے ایک سو باسٹھ آفیسر بھی شامل ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ترکی کی فوج، جسے اس سے قبل ملک کے سیکولر آئین کی محافط کہا جاتا رہا ہے، کو اس وقت ایک نئی صورتحال کا سامنا ہے۔ بغاوت کے بعد سے فوج میں جاری تطہیری مہم کا نشانہ بظاہر امریکا میں مقیم ترکی کے ایک مذہبی سکالر اور کاروباری شخصیت فتح اللہ گولن کے حامی ہیں۔ گولن، جو ماضی میں صدر ایردوان کے حلیف بھی رہے ہیں، اس وقت ان کے لیے سب سے بڑا خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ ترکی کی حکومت نے فتح اللہ گولن کی حزمت موومنٹ یا خدمت تحریک کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔

’استنبول سحر‘ یونیورسٹی کے شعبہٴ سیاسیات اور بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر طلحہ کوسے کا کہنا ہے کہ ترک صدر کا فوج کی تنظیم نو سے متعلق بیان بالکل بھی غیر متوقع نہیں ہے کیونکہ حکومت کے خلاف ناکام بغاوت میں فوج کے تینوں شعبوں یعنی برّی، بحری اور فضائیہ کے اہلکار شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ ’موجودہ صورتحال میں فوج کی تنظیم نو اصل میں صدر ایردوان کی ترجیح ہو گی کیونکہ فوج کو گولن کے حامیوں سے پاک کر کے اُس خطرے کو ٹالا جا سکتا ہے، جس کی طرف اشارہ کر کے صدر ایردوان یہ کہہ چکے ہیں کہ یہ خطرہ ابھی مکمل طور پر ٹلا نہیں‘۔

Recep Tayyip Erdogan

ترک صدر رجب طیب ایردوان

اس سے قبل ناکام فوجی بغاوت کے بعد عوامی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوان نے بغاوت کو اللہ کی طرف سے ایک ’تحفہ‘ قرار دیا تھا۔ اُن کا کہنا تھا کہ اس سے ان کو فوج اور دیگر اداروں کو ایسے عناصر سے پاک کرنے کا موقع ملے گا جو حکومت اور ملک کے خلاف سازشیں کرتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کےمطابق فوج کی تنظیم نو کے لیے اس سے بہتر وقت حکومت کے ہاتھ نہیں آ سکتا تھا۔ پروفیسر کوسے کا کہنا ہے کہ ’بغاوت کی ناکامی کے بعد ایسے ناقدین کی تعداد کم ہو جائے گی، جو حکومت کو بڑے پیمانے پر فوج میں تبدیلیوں سے روک سکیں اور وہ بھی ایسے میں، جب پہلے ہی بڑی تعداد میں فوجی جرنیل اور دیگر اعلیٰ افسران، جو اس سلسلے میں رکاوٹ بن سکتے تھے، حراست میں لیے جا چکے ہیں‘۔

خیال رہے کہ ترکی کی مسلح افواج کی نفری چھ لاکھ سے زائد ہے اور ترک فوج مغربی ممالک کے فوجی اتحاد نیٹو میں امریکا کے بعد عددی اعتبار سے دوسرے نمبر پر ہے۔

ترک فوج کی تاریخ سیاسی مداخلت کے واقعات سے بھری پڑی ہے اور انیس سو ساٹھ سے لے کر نوّے کی دہائی تک ترک فوج نے چار مرتبہ سیاسی حکومتوں کا تختہ الٹا۔ سال دو ہزار دس میں جب موجودہ صدر رجب طیب ایردوان ترکی کے وزیر اعظم اور انہی کی جماعت جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کے عبداللہ گل ملک کے صدر تھے تو حکومت کے خلاف سازش کے الزام میں چالیس اعلیٰ فوجی افسران کے خلاف کارروائی کی گئی تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع تھا کہ ترک فوج کے خلاف اس طرح کی کارروائی کی گئی، جس سے بظاہر فوج کی سیاسی عزائم کمزور ہوئے۔

Fethullah Gulen

مذہبی سکالر اور کاروباری شخصیت فتح اللہ گولن

دوسری جانب ترکی نے ملک میں ہنگامی صورتحال کے نفاذ کے بعد یورپی یونین کا انسانی حقوق کا جو کنونشن معطل کیا ہے، اسے بھی ایک انتہائی اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ترک حکومت بغاوت کے خدشات کو کچلنے کے لیے کسی بھی اقدام سے دریغ نہیں کرے گی۔

ترکی ستائیس ممالک کے اتحاد یورپی یونین میں شمولیت کے لیے گزشتہ کئی دہائیوں سے کوششیں کر رہا ہے تاہم یورپی یونین کے انسانی حقوق کے کنونشن کو معطل کرنے سے اس کی یورپی یونین میں شمولیت کی کوششوں کو دھچکا پہنچ سکتا ہے۔