1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’ترکی میں کوئی پاکستانی ہلاک نہیں ہوا‘

استنبول میں پاکستانی قونصل خانے کے ہیڈ آف چانسری دلدار علی ابڑو نے ایسی خبروں کو مسترد کر دیا ہے کہ ترکی میں مشتعل عوام کے حملے کے باعث پاکستانی بھی مارے گئے ہیں۔

ڈی ڈبلیو سے خصوصی گفتگو میں استنبول میں پاکستانی قونصل خانے کے ہیڈ آف چانسری دلدار علی ابڑو نے کہا ہے کہ استنبول کے سلطان غازی ڈسٹرکٹ میں رونما ہونے والے حالیہ واقعے میں کوئی پاکستانی ملوث نہیں تھا۔ انہوں نے بتایا کہ دراصل افغان، کرد اور شامیوں کے مابین ایک تنازعہ ہوا تھا، جس کے نتیجے میں ایک ترک شہری ہلاک ہو گیا۔

’ہُن تے میں پرافٹ اچ جاریا واں‘

ترک پولیس کی کارروائی ، چھ پاکستانی نوجوان بازیاب

پاکستانی مہاجرین کو وطن واپس جانا پڑے گا، ترک وزیر

ابڑو کے مطابق اس ترک شہری کی ہلاکت کے بعد عوام نے سلطان غازی ڈسٹرکٹ میں پناہ گزینوں پر حملے شروع کر دیے۔ یہ امر اہم ہے کہ اس ڈسٹرکٹ میں پناہ کے متلاشی غیرقانونی افراد ٹھکانے بنائے ہوئے ہیں، جہاں اکثر اوقات جھگڑے بھی ہوتے ہیں۔ ترک پولیس بھی اس علاقے میں زیادہ مداخلت نہیں کرتی ہے تاہم قتل کی واردات کے بعد پولیس بھی فعال ہو چکی ہے۔

دلدار علی ابڑو نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ استنبول کے سلطان غازی ڈسٹرکٹ میں موجود پناہ کے متلاشی افراد میں پاکستانی شہری بھی ہیں لیکن اس تازہ واقعہ میں ان کا کوئی عمل دخل نہیں تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس لڑائی میں نہ تو کوئی پاکستانی ملوث تھا اور نہ ہی کوئی ہلاک ہوا۔

ابڑو نے البتہ تصدیق کی کہ اس جھگڑے میں کچھ پاکستانی زخمی ضرور ہوئے ہیں، جنہیں طبی مدد فراہم کی جا رہی ہے۔ ابڑو نے مزید کہا کہ پاکستانی میڈٰیا میں استنبول میں پاکستانیوں کی ہلاکت کی خبریں غلط ہیں اور اس کا مقصد صرف حکومت پر دباؤ ڈالنا ہے۔

دالدارعلی ابڑو نے بتایا ہے کہ وہ استنبول میں محکمہ پولیس کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اس جھگڑے کے محرکات جاننے کی کوشش میں ہے اور جلد ہی تفصیلات سامنے آ جائیں گی۔ ابڑو نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو میں کہا کہ استنبول میں پاکستانی قونصل خانہ زخمی ہونے والے پاکستانیوں کے علاج و معالجے کی خاطر ترک حکام کے ساتھ رابطے میں ہے۔

ابڑو نے کہا کہ ابتدائی طور پر معلوم ہوا ہے کہ زخمی ہونے والے پاکستانی غیر قانونی تارکین وطن ہیں، جنہیں طبی مدد دینے کے بعد ملک بدر کر دیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ تقریبا ڈھائی برسوں کے دوران ترکی سے کم ازکم چھ ہزار غیر قانونی پاکستانی تارکین وطن کو ملک بدر کیا جا چکا ہے۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات