1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’ترکی میں کرد باغی اب لڑائی نہیں چاہتے‘

ترکی میں طویل عرصے سے سیکیورٹی دستوں کے ساتھ مسلح جنگ میں مصروف کرد باغیوں کو اب یہ یقین نہیں رہا کہ وہ گوریلا کارروائیوں سے اپنے سیاسی مقاصد حاصل کر سکتے ہیں۔

default

اسی لئے اب ان کے ایک سابقہ کمانڈر نے مشروط طور پر ہتھیار پھینکنے کی پیشکش بھی کر دی ہے۔ کرد علیحدگی پسندوں کی تنظیم کردستان ورکرز پارٹی PKK پر ترکی میں طویل عرصہ قبل قانونی طور پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ کردستان ورکرز پارٹی کے رہنما عبداللہ اوئچلان کو کئی سال قبل گرفتار کر لیا گیا تھا اور اس وقت وہ ترکی کی ایک جیل میں سزا کاٹ رہے ہیں۔

عبداللہ اوئچلان کے چھوٹے بھائی عثمان اوئچلان نے، جو ماضی میں کالعدم کردستان ورکرز پارٹی کے کمانڈر بھی رہ چکے ہیں، اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ترکی کے جنوب مشرق میں اپنے لئے خود مختاری کی جدوجہد کرنے والے کرد عسکریت پسندوں کی مسلح تحریک کو 25 برس ہو گئے ہیں مگر یہ تنازعہ ابھی تک حل نہیں ہوا۔

لیکن اب اگر ترک حکومت PKK نامی کالعدم تنظیم کے جیل میں قید رہنما عبداللہ اوئچلان کو رہا کر دیتی ہے، توکرد گوریلے اپنی مسلح بغارت ترک کر دیں گے۔ عثمان اوئچلان نے کہا کہ جنوب مشرقی ترکی میں کرد تنازعے کا سیاسی حل نکالا جانا چاہئے۔ کردستان ورکرز پارٹی کے اس سابقہ کمانڈر نے کہا کہ اس کا اپنے بھائی عبداللہ اوئچلان کے ساتھ گزشتہ تین برسوں سے کوئی رابطہ نہیں ہے، وہ خود 2004ء میں پی کے کے سے علیحدگی اختیار کر چکے ہیں، تاہم وہ ابھی تک ترکی اور عراق کی درمیانی سرحد پر پہاڑوں میں چھپے مسلح کرد باغیوں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

Tayyip Erdogan

ترک وزیر اعظم ایردوآن

عثمان اوئچلان نے شمالی عراق میں خبر ایجنسی روئٹرز کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ کرد باغیوں اور ترک سیکیورٹی دستوں میں سے کوئی بھی فریق یہ جنگ نہیں جیت سکتا۔ اس لئے کہ ایسا ممکن ہی نہیں ہے۔ ’’اگر PKK کوکوئی جانی نقصان پہنچتا ہے، تو کئی نئے کرد عسکریت پسند اپنے ہلاک ہونے والے ساتھیوں کی جگہ لینے پر تیار ہو جاتے ہیں۔ اس لئے کہ کردستان ورکرز پارٹی خود کو ہمیشہ منظم اور اپنی صفوں کو بھرا ہوا رکھ سکتی ہے۔‘‘

ساٹھ سالہ عثمان اوئچلان نے اپنے انٹرویو میں یہ بھی کہا کہ اگر ترک حکومت اور فوجی دستے کرد باغیوں کو لڑنے پر مجبور نہ کریں تو PKK بھی جنگ نہیں کرے گی۔ ’’ اسی پس منظر میں اب فریقین کے مابین کشیدگی میں کچھ کمی آ چکی ہے۔‘‘

ترکی میں موجودہ وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن کی کوشش ہے کہ کرد باشندوں کو حاصل ان کے ثقافتی حقوق میں اضافہ ہونا چاہئے۔ انقرہ میں ترک حکومت کے سربراہ کی اس سوچ کو عثمان اوئچلان نے کئی عشروں میں پیدا ہونے والا قیام امن کا سب سے بہترین موقع قرار دیا۔

کردستان ورکرز پارٹی کے اس سابقہ کمانڈر کے بقول کرد باغیوں کی قیادت کا اپنے مقاصد کے حصول کے لئے اس تنازعے کے ممکنہ فوجی حل پر اعتماد کم ازکم چھ سال قبل ختم ہو گیا تھا۔ اسی لئے اب کرد باغی یہ چاہتے ہیں کہ اگر ان کے جیل میں قید سزا یافتہ رہنما عبداللہ اوئچلان کو، جنہیں کرد علیحدگی پسند احترام سے ’آپو‘ کہتے ہیں، ان کے ’’گھر پر نظر بند کر دیا جائے، پھر ان کے ساتھ باقاعدہ مکالمت شروع کر دی جائے، تو کرد مسئلہ تین سے پانچ ماہ کے اندر اندر حل ہوجائے گا، اور پی کے کے کا کوئی بھی عسکریت پسند ایسے کسی حل کی مخالفت نہیں کرے گا۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: ندیم گِل

DW.COM