ترکی میں چھٹیاں گزارنے والے جرمنوں کی تعداد میں اضافہ | معاشرہ | DW | 10.01.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ترکی میں چھٹیاں گزارنے والے جرمنوں کی تعداد میں اضافہ

رواں برس چھٹیاں گزارنے کا منصوبہ رکھنے والے جرمن شہریوں کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔ 2016 میں ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کے بعد سے ترکی کا رُخ کرنے والے ایسے جرمنوں کی تعداد بہت کم ہو گئی تھی۔

نئے سال کے آغاز پر دنیا کی سب سے بڑی سیاحتی سہولیات فراہم کرنے والی جرمن کمپنی Tui نے کہا ہے کہ اس کے پاس ترکی میں چھٹیاں گزارنے کے لیے بُکنگ کی تعداد میں 70 فیصد اضافہ ہو گیا ہے۔ اس کمپنی کے مطابق اس بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر رواں برس کے دوران بذریعہ ہوائی جہاز ترکی جانے کے لیے ایک لاکھ سیٹوں کی ایڈوانس بکنگ کروا لی ہیں۔

 2016ء کے دوران ترکی جانے والے جرمنوں کی تعداد میں 50 فیصد کمی ہو گئی تھی جس کی ایک وجہ اُسی برس جنوری میں استنبول کے علاقے سلطان احمت میں ہونے والا ایک دھماکا تھا جس کے نتیجے میں 12 جرمن سیاح ہلاک ہو گئے تھے۔ اس واقعے اور پھر ترکی میں ہونے والی ناکام فوجی بغاوت کے بعد 2017ء میں سیاحت کی غرض سے ترکی کا رُخ کرنے والے جرمنوں کی تعداد بحال نہ ہو سکی۔

DW Im Ring mit Nalan

ترکی میں چھٹیاں گزارنے کے لیے بُکنگ کی تعداد میں 70 فیصد اضافہ ہو گیا ہے

تاہم ٹریول کمپنی Tui کے شعبہ سیاحت کے سربراہ اشٹیفان باؤمرٹ کے مطابق اس دوران ایسے دیگر مقامات پر سیاحت کے لیے جانے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا جہاں پہلے سیاسی افراتفری یا دہشت گردانہ حملے ہو چکے تھے۔ ان کے مطابق مصر کے لیے بکنگ کی تعداد میں 58 فیصد جبکہ تیونس کے لیے 125 فیصد اضافہ ہوا۔

جرمنی کےجنوب مغربی شہر اشٹٹ گارٹ میں ہونے والے سیاحتی میلے سے قبل باؤمرٹ کا کہنا تھا کہ رواں برس سیاحت کے لیے جانے والوں کی طرف سے بکنگ کی تعداد کافی زیادہ اچھی جا رہی ہے۔

DW.COM