1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ترکی میں ’وقت امدادی ٹیموں کے خلاف‘

مشرقی ترکی میں گزشتہ روز آنے والے زلزلے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ڈھائی سو سے تجاوز کر گئی ہے۔ جس تیزی سے وقت گزر رہا ہے، ترکی میں امدادی کاموں کی رفتار بھی بڑھتی جا رہی ہے۔

default

ترک حکام کے مطابق ابھی بھی بڑی تعداد میں لوگ ملبےتلےدبے ہوئے ہیں۔ ان افراد کو بھوک اور پیاس کا ہی سامنا نہیں بلکہ سخت موسم کے باعث بھی ان کے زندہ بچ جانے کی امیدیں دم توڑتی جا رہی ہیں۔ زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر سات اعشاریہ دو ریکارڈ کی گئی۔ اس سے سب سے زیادہ وان اور ایرکس کے علاقے متاثر ہوئے۔ گزشتہ روز سے ہی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔ امدادی ٹیموں کو اندازہ ہے کہ ہر گزرتا لمحہ ملبے تلے دبے افراد کے لیے کتنا مشکل ہے۔’وقت امدادی ٹیموں کے خلاف کام کر رہا ہے‘۔

Schweres Erdbeben in der Türkei

اب تک 200 سے زائد لاشوں کو نکالا جا چکا ہے

وان کا علاقہ ترک ایرانی سرحد پر واقع ہے۔ اب تک 200 سے زائد لاشوں کو نکالا جا چکا ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ امدادی سرگرمیوں کے منتظم اور ہلال احمر کے سیکرٹری احمد لطفی نے امدادی سامان کی جلد از جلد ترسیل کی یقین دہانی کرائی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک بڑی تعداد میں خیمے، کمبل اور کھانے پکانے کے لیے استعمال ہونے والی اشیاء متاثرہ علاقوں میں بھیج دی گئی ہیں۔ سامان کی پہلی کھیپ پہنچ گئی ہے اور خیمے لگا دیے گئے ہیں۔ ایرکش کا علاقہ شدید متاثر ہوا ہے اور اسی وجہ سے یہی امدادی سرگرمیوں کا مرکز بھی ہے۔

ایرکش لگ بھگ ایک لاکھ نفوس کی آبادی والا ضلع ہے، جہاں پچاس سے زائد رہائشی عمارتیں زمین بوس ہوئی ہیں۔ اس باعث ہلاکتوں کی تعداد بھی بڑھ سکتی ہے۔ سینکڑوں افراد ابھی بھی لاپتہ ہیں۔ سطحء سمندر سے ایک ہزار سات میٹر کی بلندی پر ہونے کی وجہ سے وان اور زلزلے سے متاثر ہونے والے دیگرعلاقوں میں آباد افراد کو رات شدید سردی میں گزارنا پڑی۔

Schweres Erdbeben in der Türkei

سینکڑوں افراد ابھی بھی لاپتہ ہیں

بارہ سال قبل مغربی ترکی میں آنے والے زلزلے میں بیس ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔کوہ پیما ناشو مہَرخی کے بقول اُس وقت ہونے والی تباہی سے ترکی نے بہت کچھ سیکھا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ترکی میں تعمیراتی سامان پر زیادہ توجہ نہیں دی جاتی۔ اس رجحان کو تبدیل کرنا ہو گا۔ اس وجہ سے پرانی عمارتوں کو گرا کر دوبارہ تعمیرکرنا چاہیے یا کم از کم ان کی مرمت کرنی چاہیے۔ تاکہ اس طرح کے حادثوں میں کم سے کم جانی نقصان ہو۔

ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والے یہ ترک کوہ پیما اِس وقت متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ یونان، امریکہ، ایران، اسرائیل اور جرمنی سمیت دنیا کے کئی ملکوں نے اس نازک لمحے میں ترکی کو امداد کی پیشکش کی ہے جبکہ بہت سے ملکوں کی امدادی ٹیمیں بھی ترکی پہنچنا شروع ہو گئی ہیں۔

تحریر: رائن ہارڈ باؤم گارٹن/  عدنان اسحاق

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس