ترکی میں ناکام فوجی بغاوت: باسفورس پل کا نام بدلنے کا فیصلہ | حالات حاضرہ | DW | 26.07.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ترکی میں ناکام فوجی بغاوت: باسفورس پل کا نام بدلنے کا فیصلہ

ترک وزیر اعظم نے کہا ہے کہ استنبول کے مشہور زمانہ باسفورس پل کا نام بدل کر ان ’شہداء‘ کی نسبت سے رکھا جائے گا، جنہوں نے پندرہ جولائی کی فوجی بغاوت کو ناکام بنانے کی خاطر اپنی جانیں دی تھیں۔

Türkei Selfie vor einem Panzer auf der Bosporus-Brücke

اس پُل پر بھی لوگوں نے فوجی بغاوت کرنے والے عناصر کا ڈٹ کر مقابلہ کیا تھا اور متعدد افراد اسی پُل پر مارے گئے تھے

خبر رساں ادارے اے پی نے ترک وزیر اعظم بن علی یلدرم کے حوالے سے بتایا ہے کہ ترکی میں ایشیا اور یورپ کو ملانے والے اور آبنائے باسفورس پر بنائے گئے ’باسفورس پُل‘ کا نام بدل کر ’شہداء پندرہ جولائی برج‘ رکھ دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملکی کابینہ کے ایک اجلاس میں مشاورت کے بعد اس پُل کا نام بدلنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

چھبیس جولائی بروز منگل استنبول میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے یلدرم نے ایک مرتبہ پھر پندرہ جولائی کی فوجی بغاوت کو ناکام بنانے میں شہریوں کے کردار کو سراہا اور کہا کہ مزاحمت کے دوران ہلاک ہونے والے شہریوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے انقرہ اور استنبول میں خصوصی یادگاریں بھی تعمیر کی جائیں گی۔

اس ناکام فوجی بغاوت کے نتیجے میں ترکی میں 290 افراد مارے گئے تھے۔ جب ملکی فوج کے ایک دھڑے نے ترک صدر رجب طیب ایردوآن کا اقتدار ختم کرنے کی خاطر کارروائی شروع کی تھی، تو عوام کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی تھی۔

اس پُل پر بھی لوگوں نے فوجی بغاوت کرنے والے عناصر کا ڈٹ کر مقابلہ کیا تھا اور متعدد افراد اسی پُل پر مارے گئے تھے۔

ادھر دوسری طرف افغانستان میں تعینات دو ترکی فوجی جرنیلوں کو پندرہ جولائی کی بغاوت کا حصہ ہونے کے شبے میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ان اعلیٰ فوجی اہلکاروں کو دبئی میں حراست میں لیا گیا۔

Türkei Bosporus-Brücken werden geschlossen

آبنائے باسفورس پر بنائے گئے ’باسفورس پُل‘ کا نام بدل کر ’شہداء پندرہ جولائی برج‘ رکھ دیا جائے گا

اس ناکام فوجی بغاوت کے بعد ترک حکومت نے ’باغی عناصر‘ کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کر رکھا ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق ترک سکیورٹی فورسز کی طرف سے گرفتار کیے جانے والے افراد میں اعلیٰ فوجی اہلکاروں کے علاوہ جج، اساتذہ، صحافی اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات بھی شامل ہیں۔

یورپی یونین نے اس کریک ڈاؤن پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انقرہ حکومت کو اپنی ان کارروائیوں میں ہر حال میں قانون کی بالا دستی کو یقینی بنانا ہو گا۔