1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ترکی میں مسیحیوں کا قتل: ’ذمہ دار اسلام پسند نہیں قوم پرست‘

ترکی میں ملاتیا کے مقام پر 2007ء میں تین پروٹسٹنٹ مسیحی باشندوں کے قتل سے متعلق متعدد ملزمان کے خلاف مقدمے کی سماعت آج جمعرات کے روز بھی جاری رہی۔

default

ملاتیا کے تین مسیحی مقتولین میں سے ایک کی بیوہ سکیورٹی اہلکاروں کی حفاظت میں، فائل فوٹو

لیکن اس بارے میں نئی بات یہ ہے کہ تین مسیحیوں کے اس قتل کے سلسلے میں پہلے اگر مبینہ شدت پسند مسلمانوں کا نام لیا جاتا تھا تو اب ’یورپی استحکامی پیش قدمی‘ نامی تھنک ٹینک کی ایک رپورٹ مختلف حقائق کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

Türkei Stadtbild von Malatya nach Mord in Bibel-Verlag

ملاتیاکے اندرون شہر کی ایک مسجد

ترکی میں نومبر 2007ء میں جب ملاتیا کے تین مسیحی باشندوں کے قتل سے متعلق مقدمے کی سماعت شروع ہوئی تھی، تو ہر کسی کی نظریں ان پانچ نوجوان ملزمان پر لگی ہوئی تھیں، جن کی عمریں انیس اور بیس برس کے درمیان تھیں۔ ایک طرف اگر یہ کہا جاتا تھا کہ یہ تہرا قتل ان ملزمان کا انفرادی فعل تھا تو دوسری طرف انہی ملزمان کو عسکریت پسندانہ اسلام کے نمائندے بھی قرار دیا جاتا تھا۔

اب جرمن دارالحکومت برلن میں قائم ایک تھنک ٹینک ’یورپی پیش قدمی برائے استحکام،‘ جس کا ایک دفتر ترک شہر استنبول میں بھی کام کر رہا ہے، کی طرف سے ایک ایسی چھان بین کے نتائج سامنے آئے ہیں، جو قتل کے ان واقعات کے پس منظر کی نئے سرے سے وضاحت کرتی ہے۔

اس تھنک ٹینک کے ایک تجزیہ نگار اکرام گیوزیل دیرے نے اپنی ایک تفصیلی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ان ملزمان کے پیچھے ایک پورا نیٹ ورک کام کر رہا تھا، اور قریب ساڑھے تین سال قبل قتل کے اس افسوسناک واقعے کا ایک سیاسی پہلو بھی ہے۔

Karte Türkei mit Istanbul

اکرام گیوزیل دیرے کے مطابق، ’اس امرکے کافی مضبوط شواہد موجود ہیں کہ قتل کے ان واقعات کی منصوبہ بندی اور عملی تیاری میں فوج کے خفیہ ادارے نے ایک اہم کردار ادا کیا تھا۔ یہ بات اکتوبر 2010 میں اس خفیہ سروس کے ایک سابقہ اہلکار کی طرف سے دیے گئے اس بیان میں سامنے آئی تھی، جس میں اس نے کہا تھا کہ اسے 2004 سے یہ علم تھا کہ ملاتیا میں قتل کے ان واقعات اور ہرانت ڈِنک نامی صحافی کے قتل جیسے دیگر واقعات کی منصوبہ بندی بھی فوجی خفیہ سروس نے کی تھی۔‘

یورپی پیش قدمی برائے استحکام کی اس رپورٹ کے مطابق قتل کے ان واقعات سے متعلق جتنی زیادہ تحقیق کی گئی، اتنا ہی زیادہ یہ امر بھی واضح ہوتا گیا کہ قتل کے ان واقعات میں نہ صرف فوجی انٹیلی جنس سروس کے ملوث ہونے کے اشارے موجود ہیں بلکہ یہی اشارے کئی دیگر جرائم کے ارتکاب کو بھی پیش منظر میں لاتے ہیں۔

اکرام گیوزیل دیرےکے بقول ان جرائم کے پیچھے کار فرما افراد سے متعلق تفصیلات یہ پتہ دیتی ہیں کہ یہ سب کچھ ایک ایسے انتہائی حد تک قوم پسندانہ نیٹ ورک کا کام تھا، جس نے اس کی تیاری اس مقصد کے تحت کی تھی کہ ترکی میں حکومت کے خلاف فوجی بغاوت کی راہ ہموار کی جا سکے۔ انہوں نے کہا، ’ملاتیا میں قتل اور ہرانت ڈِنک کی ہلاکت کا مقصد ملک میں بدامنی اور انتشار پیدا کرنا تھا تاکہ سول حکومت کو برطرف کر کے فوج اقتدار میں آ سکے۔‘

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس