1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ترکی میں مزید دہشت گردانہ حملوں کا خطرہ

اسرائیل نے اپنے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ فی الفور تُرکی سے نکل جائیں۔ دوسری طرف ترک حکام کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ حالیہ ہفتوں کے دوران کئی ممکنہ دہشت گردانہ حملوں کو روکا گیا ہے۔

اسرائیل کی نیشنل کونسل نے ترکی میں مزید حملوں کے خطرات کے تناظر میں وہاں سیاحت کے لیے گئے ہوئے اپنی شہریوں کے علاوہ ایسے اسرائیلیوں کو بھی فوری طور پر ترکی چھوڑنے کا کہا ہے، جو وہاں کاروبار کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ایسے افراد کو بھی تُرکی کا سفر نہ کرنے کو کہا گیا ہے جو حالیہ دنوں میں وہاں جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اسرائیلی نیشنل کونسل کے مطابق اس کے پاس یہ یقین کرنے کی وجوہات ہیں کہ شدت پسند تنظیم اسلامک اسٹیٹ سیاحوں، اور خاص طور پر اسرائیلیوں کے خلاف مزید حملوں کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ گزشتہ آٹھ روز کے دوران یہ دوسری مرتبہ ہے کہ کونسل کی طرف سے ترکی کے لیے سفری وارننگ جاری کی گئی ہے۔ اب سفری وارننگ کا درجہ بڑھا کر دو کر دیا گیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ ’بڑا اور ٹھوس خطرہ‘۔

قبل ازیں 19 مارچ کو استنبول میں ہونے والے خودکش حملے کے نتیجے میں تین اسرائیلی سیاحوں اور ایک ایرانی شہری کی ہلاکت، جبکہ درجنوں دیگر کے زخمی ہونے کے بعد اسرائیل نے 20 مارچ کو درجہ تین کا سفری انتباہ جاری کیا تھا جس کا مطلب ہے ’بنیادی ٹھوس خطرہ‘۔

سی این این تُرک ٹیلی وژن کے مطابق ترک پولیس نے قبل ازیں داعش سے تعلق رکھنے والے گروپوں کی طرف سے ایسٹر کے موقع پر یہودی اور مسیحی اداروں پر حملوں کے خطرے سے خبردار کیا تھا۔ پولیس کی طرف سے لوگوں کو اور خاص طور سے دارالحکومت انقرہ میں عوام سے خصوصی احتیاط برتنے کو کہا گیا تھا۔ سی این این تُرک کے مطابق یہودی عبادت گاہوں اور چرچوں کے باہر پولیس کی موجودگی بھی بڑھا دی گئی ہے۔

حالیہ ہفتوں میں کئی ممکنہ دہشت گردانہ حملے روکے، ترک حکام

تُرکی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حالیہ چند ہفتوں کے دوران کئی ممکنہ دہشت گردانہ حملے روکے ہیں جن میں خودکش حملوں کے منصوبے بھی شامل تھے۔ یہ بات ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے ترجمان ابراہیم کلن نے دارالحکومت انقرہ میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران بتائی۔

تُرکی میں رواں برس اب تک چار بڑے دہشت گردانہ حملے ہو چکے ہیں جن میں 80 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ ان میں سے تازہ ترین 19 مارچ کو استنبول میں ہوا جس کے نتیجے میں تین اسرائیلی اور ایک ایرانی شہری ہلاک ہوا۔

5300 سے زائد کُرد عسکریت پسندوں کو ہلاک کر چکے ہیں، ایردوآن

دوسری طرف تُرک فورسز علیحدگی پسند تنظیم کُردستان ورکرز پارٹی کے خلاف بھی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ تُرک صدر رجب طیب ایردوآن کے مطابق گزشتہ برس جولائی میں کردستان ورکرز پارٹی کے ساتھ جنگ بندی ٹوٹ جانے کے بعد سے ملکی فورسز 5,359 کرد عسکریت پسندوں کو ہلاک کر چکی ہیں۔

ترک نیوز ایجنسی انادولو کے مطابق ایردوآن کا کہنا تھا کہ اس دوران مختلف پر تشدد حملوں کے نتیجے میں 355 فوجی، پولیس اہلکار یا گارڈز ہلاک ہوئے ہیں۔ زیادہ تر ہلاکتیں ملک کے جنوب مشرقی کُرد اکثریت والے حصے میں ہوئیں۔