ترکی میں قبل از وقت انتخابات کا اعلان | حالات حاضرہ | DW | 21.08.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ترکی میں قبل از وقت انتخابات کا اعلان

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے جمعے کے روز کہا ہے کہ وہ جون کے غیر فیصلہ کُن انتخابات اور اتحادیوں کے مذاکرات کی ناکامی کے بعد یکم نومبر کو قبل از وقت الیکشن کے انعقاد کی امید کر رہے ہیں۔

ایردوآن نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ’’ہم اپنے ملک کو انتخابات کی طرف لے جائیں گے‘‘۔ ترک صدر کا کہنا تھا کہ وہ اس سلسلے میں آئندہ پیر کو پارلیمان کے اسپیکر سے ملاقات کریں گے۔ ایردوان کے بقول، ’’اگر خدا نے چاہا تو تُرکی میں یکم نومبر کو دوبارہ انتخابات کا انعقاد ہوگا‘‘۔

ایردوآن کے بیانات اس امر کی نشاندہی ہیں کے وہ دوبارہ الیکشن کروانے کے اپنے حق کا استعمال کریں گے۔

اس سوال کے جواب میں کہ کیا ترکی کا صدر آئین کے تحت قبل از وقت الیکشن کروانے کا مجاز ہے؟ ایردوآن کا جواب تھا، ’’جی ہاں ہے‘‘۔

رواں برس سات جون کو ترکی میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے بعد حکومت سازی کے لیے سیاسی پارٹیوں کا اتحاد اب تک ممکن نہیں ہو پایا۔ سیاسی جماعتوں کو ایک اتحاد پر متفق ہونے کے لیے آئندہ اتوار کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے۔ اس وقت ترکی کی حکمران جماعت جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی AKP تا حال ایک مخلوط حکومت بنانے میں ناکام رہی ہے۔

Türkei Proteste Unruhen in Istanbul

ترکی کچھ عرصے سے دہشت گردانہ حملوں اور شورش کا شکار ہے

اے کے پی اگرچہ ترکی کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے تاہم 2002ء میں بر سر اقتدار آنے کے بعد پہلی بار جون کے الیکشن میں یہ پارٹی اکثریتی ووٹ حاصل کرنے میں بُری طرح ناکام رہی تھی۔ یہ پارٹی کی ناکامی کے ساتھ ساتھ رجب طیب ایردوآن کی ساکھ کو لگنے والا ایک بڑا دھچکہ تھا۔

اُدھر ترکی کی اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے ایردوآن پر مسلسل یہ الزامات لگائے جاتے رہے ہیں کہ ان کی جماعت قبل از وقت انتخابات میں اپنے ووٹ بینک بڑھانے کی کوشش میں مخلوط حکومت کے قیام کے لیے ہونے والے مذاکرات میں مسلسل مداخلت کرتی رہی ہے۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن کی طرف سے نئے اور قبل از وقت انتخابات کے انعقاد کا اعلان ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب ترکی اپنے ہاں کُرد باغیوں کے خلاف ایک بڑے آپریشن میں مصروف ہے۔ اور اسے اسلامک اسٹیٹ کے جہادیوں اور ملک میں دہشت گرد عناصر کی بپا کی ہوئی شورش کا سامنا ہے۔

DW.COM