1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ترکی میں فوجی بغاوت کی ناکامی کے پانچ اسباب

ترکی میں فوجی کی جانب سے بغاوت کی کوشش نے کئی گھنٹوں تک دنیا بھر میں سنسنی پھیلائی رکھی۔ آخر وہ کونسی سے پانچ بڑی وجوہات ہیں، جن کی بناء پر فوج کا ایک حصہ اقتدار پر قبضہ نہ کر سکا۔ یہ وجوہات کیا تھیں؟ جانیے اس رپورٹ میں

عوامی کی جانب سے مزاحمت

ترکی میں صدر رجب طیب ایردوآن کے پاس ایسے جذباتی حامیوں کی کمی نہیں ہے، جو کسی بھی وقت بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکلنے میں دیر نہیں لگاتے۔ 2002ء سے ان کی قدامت پسند جماعت ہر انتخابات جیتی آ رہی ہے۔ ایک اور اہم وجہ یہ بھی تھی کہ اس دوران ایردوآن کے مخالفین نے بھی فوجی بغاوت کو مسترد کیا۔ پارلیمان میں حزب اختلاف کی تینوں بڑی جماعتوں نے حکومت کا ساتھ دینے کا اعلان کیا۔ اس دوران پولیس بھی حکومت کے ساتھ ہی رہی۔ ترک شہریوں کو آج بھی 1980ء کا وہ وقت بہت اچھی طرح یاد ہو گا، جب اسی طرح کی ایک فوجی بغاوت کے بعد ہزاروں افراد کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا تھا۔

فوج منقسم تھی

بغاوت کی کوشش کرنے والوں کو شاید امید تھی کہ فوج کا زیادہ تر حصہ ان کا ساتھ دے گا لیکن حالات الگ ہی رخ اختیار کر گئے۔ باغیوں کے پاس اتنی کمک نہیں تھی کہ وہ اہم تنصیبات اور عمارات کا قبضہ کر سکیں اور اپنے قبضے کو برقرار رکھ سکیں۔ فوج کے سربراہ ہو لوسی آکار اور دیگر اعلٰی افسران حکومت کے ساتھ رہے۔ اسی طرح وہ پائلٹ بھی انقرہ حکومت کے وفادار ہی رہے، جو باغیوں کی جانب سے اغوا کیے جانے والے لڑاکا طیاروں کو نشانہ بنانے کے لیے حکومتی احکامات پر اپنے جنگی طیاروں کے ساتھ فضا میں بلند ہوئے تھے۔

ایردوآن کو روکنے میں ناکامی

فوجی بغاوت کے وقت ترک صدر رجب طیب ایردوآن بحیرہ ایجیئن پر چھٹیاں منا رہے تھے۔ ایردوآن کے مطابق اس ہوٹل پر بھی بم برسائے گئے، جس میں ان کا قیام تھا۔ تاہم یہ بم باری ہوٹل سےان کے نکل جانے کے بعد کی گئی۔ اس طرح باغی ایردوآن کو گرفتار کرنے یا روکنے میں ناکام رہے۔

ترک صدر کی انٹرنیٹ تک رسائی

کئی گھنٹوں تک کسی کو یہ علم نہیں تھا کہ ایردوآن کہاں ہیں لیکن عوام سے ان کا رابطہ ہو گیا تھا۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی ترک شاخ کی ایک میزبان نے اپنے اسمارٹ فون کے ذریعے ترک صدر سے رابطہ کیا اور اس دوران ہونے والی بات چیت براہ راست نشر کی۔ اس میزبان نے اپنا فون کیمرے کے سامنے رکھ دیا تھا۔ اس کے علاوہ ایردوآن نے اُس سماجی ویب سائٹ ٹویٹر کو بھی استعمال کیا، جس پر دو سال قبل انہوں نے ہی پابندی عائد کی تھی۔ تھوڑی ہی دیر میں بغاوت کے خلاف سڑکوں پر نکلنے والے ترک عوام کی تصاویر انٹرنیٹ پر گردش کرنے لگیں۔

عالمی سطح پر ایردوآن کی پشت پناہی

اقوام متحدہ ہو یا مغربی دفاعی اتحاد نیٹو، یورپی یونین ہو یا امریکا، روس یا جرمن حکومت، دنیا کے تقریباً تمام ہی ممالک کی جانب سے فوجی بغاوت کی اس کوشش کو مسترد کیا گیا۔ ان میں وہ افراد بھی شامل تھے، جو ایردوآن اور ان کے طرز حکومت کے شدید ناقد رہے ہیں۔ عالمی رہنماؤں نے مشترکہ طور پر خونریزی کو فوری طور پر روکنے کے علاوہ جمہوریت اور آئین کی حکمرانی قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔