1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ترکی میں فوجی بس پر بم حملہ، چار افراد ہلاک

استنبول میں سڑک کنارے نصب ریموٹ کنٹرول بم اس وقت پھٹا، جب فوجیوں اور ان کے خاندانوں کو لے جانے والی ایک بس اس کے قریب سے گزر رہی تھی۔

default

یہ حملہ کرد عسکریت پسندوں کے خلاف ترک فوج کے حالیہ آپریشن کے بعد سامنے آیا ہے اور اسے آپریشن کا ردعمل سمجھا جا رہا ہے۔

BdT Türkische Soldaten an irakischer Grenze

PKK کے عسکریت پسندوں کے ساتھ حالیہ جھڑپوں کے بعد عراقی سرحد کے قریبی علاقوں میں ترک فوج کی بڑی تعداد تعینات کی گئی ہے۔

یہ ریموٹ کنٹرول بم استنبول کے ڈسٹرکٹ ہلکلی میں ایک فوجی رہائشی کمپلیکس کے قریب نصب کیا گیا تھا۔ ترکی کے ایک سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں تین فوجی جب کہ ایک 17 سالہ لڑکی شامل ہے۔ تاہم فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ بس میں کُل کتنے افراد سوار تھے اور ان میں سے کتنے فوجی تھے۔

استنبول کے صوبائی گورنر حسین ایونی مُتلو کے مطابق اس حملے میں درجن بھر دیگر افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے دو کی حالت تشویش ناک ہے۔ مُتلو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اسے ایک دہشت گردانہ حملہ قرار دیا اور اسے عوام میں تناؤ، نا امیدی اور تقسیم ڈالنے کی ایک کوشش قرار دیا۔

حالیہ دنوں میں عراقی سرحد کے قریب واقع علاقوں میں ترک فوج اور کردوں کی کالعدم کردستان ورکرز پارٹی PKK کے عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپوں میں اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد پیر کے روز ان علاقوں میں ترک ایلیٹ فورس کے سپاہیوں کی ایک بڑی تعداد تعینات کی گئی ہے۔

اس حملے کی ذمہ داری فوری طور پر کسی کی جانب سے قبول نہیں کی گئی۔

ادھر فوج کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ پیر کی شام PKK کے باغیوں کے ساتھ تازہ جھڑپوں میں سات کرد عسکریت پسند جبکہ ایک فوجی ہلاک ہوا۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: امجد علی

DW.COM