1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ترکی میں فضائیہ کے 73 پائلٹوں کی گرفتاری کے احکامات، سرکاری میڈیا

ترکی کے سرکاری میڈیا کے مطابق جولائی میں ناکام فوجی بغاوت میں ملوث ہونے کے الزام میں ملکی فضائیہ کے 73 پائلٹوں کو حراست میں لینے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔

سرکاری میڈیا کے مطابق ان میں سے 45 کو جمعرات کے روز پولیس نے ملک کے وسطی صوبے کونیا اور دارالحکومت انقرہ سمیت ترکی بھر میں چھاپوں کے دوران حراست میں لیا  ہے، جب کہ اس سے قبل 29 پائلٹوں پر باقاعدہ فرد جرم عائد کی جا چکی ہے۔ ان گرفتاریوں کے احکامات ملک کے دفترِاستغاثہ کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں۔ ترک میڈیا کے مطابق یہ تازہ گرفتاریاں ناکام بغاوت میں ملوث سرکاری عہدیداروں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کا حصہ ہیں۔

ترک سرکاری خبر رساں ادارے انادولو کے مطابق ان پائلٹوں پر شک ہے کہ ان کا تعلق فتح اللہ گولن کی تحریک سے ہے۔ ترک مبلغ فتح اللہ گولن گزشتہ کئی برسوں سے امریکا میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ انقرہ حکومت کا الزام ہے کہ 15 جولائی کو ملکی فوج کی جانب سے اقتدار پر قبضے کی کوشش گولن ہی کے احکامات پر عمل میں آئی، تاہم فتح اللہ گولن ان الزامات کو مسترد کرتے ہین۔

ان تازہ گرفتاریوں کے لیے جاری کردہ وارنٹس میں ان پائلٹوں پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے ’دستور کی خلاف وزری‘ کی اور ’ترک جمہوریہ کے خلاف مسلح باغی گروہ کا حصہ‘ بنے۔ اس کے علاوہ اس حکم نامے میں ان پائلٹوں پر ’گولن تحریک کی ایما پر کام کرنے‘ کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔

Türkei Polizei stürmt regierungskritischen Fernsehsender (Reuters/M. Sezer)

اس بغاوت کے بعد فتح اللہ گولن کی تحریک سے وابستہ افراد کے خلاف سخت کریک ڈاؤن جاری ہے

ترک میڈیا کے مطابق کونیا کے تھرڈ مین جیٹ بیس کمانڈ پر پولیس چند پائلٹوں کی تلاش کر رہے ہیں، جب کہ اس اڈے سے درجنوں پائلٹ گرفتار کیے جا چکے ہیں۔

گزشتہ ہفتے ترکی میں ائر فورس کے مزید 47 فوجی افسروں کو اسی اڈے سے حراست میں لے کر گولن تحریک کے ساتھ تعلق کے شبے میں پوچھ گچھ کی گئی تھی۔ مقامی میڈیا کے مطابق ان 47 میں سے 29  کو بعد میں باقاعدہ طور پر گرفتار کر لیا گیا۔

جولائی کے وسط میں ہونے والی ناکام فوجی کے بغاوت کے بعد سے اب تک 35 ہزار سے زائد افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے، جب کہ اس بغاوت سے تعلق کے شبے میں اب تک 82 ہزار افراد سے پوچھ گچھ کی گئی ہے۔

اس کریک ڈاؤن کے نتیجے میں عدلیہ، فوج، تعلیم اور میڈیا کے شعبوں میں ہزاروں افراد کو ملازمتوں سے فارغ کیا جا چکا ہے۔

اس سخت کریک ڈاؤن پر یورپی یونین کی جانب سے انقرہ حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کریک ڈاؤن کی آڑ میں ترک صدر  ایردوآن اپنے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنا رہے ہیں، جب کہ ملک میں اظہار رائے کی آزادی پر بھی پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔