1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ترکی میں صحافیوں کی گرفتاری پر تشویش ہے، یورپی یونین

ترکی کی ایک عدالت کے حکم پر دو نامور ترک صحافیوں کی گرفتاری پر یورپی یونین نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان صحافیوں نے اپنی رپورٹوں میں ترک خفیہ سروسز کی شام میں اسلحے کی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کا انکشاف کیا ہے۔

ترکی میں دو صحافیوں کی گرفتاری کے خلاف آج جمعے کو دو ہزار سے زائد افراد نے مظاہرہ کیا۔ اطلاعات کے مطابق استنبول میں کیے جانے والے اس مظاہرے میں شریک افراد نے حکومت کی جانب سے آزادی صحافت پر قدغن لگانے کے خلاف نعرے بازی کی۔ گزشتہ روز گرفتار ہونے والے صحافیوں کو جاسوسی اور دہشت گردی کی تشہیر کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ ان دونوں صحافیوں نے ایک ایسی ویڈیو جاری کی تھی، جس میں انقرہ حکومت کی طرف سے شام میں باغیوں کو ہتھیار فراہم کرتے دکھایا گیا تھا۔ یہ ویڈیو رواں سال مئی میں سامنے آئی تھی۔

ترک شہر استنبول کی عدالت نے گزشتہ روز ترک اپوزیشن کے روزنامے جمہوریت کے مدیراعلیٰ جان دُندار اور ایردم گُل کو ریاستی راز افشاء اور دہشت گرد تنظیموں کی امداد کے حوالے سے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔

Türkei Proteste nach Festnahme des Journalisten Can Dündar

صحافیوں کی گرفتاری پر عوامی مظاہرہ

رواں برس 15 مئی کو ان دونوں صحافیوں نے اپنے اخبار کی ویب سائیٹ پر جنوری 2014 ء کی وہ ویڈیو شائع کر دی تھی جس میں مبینہ طور پر پولیس کو شام بھیجنے کے لیے ترک اینٹیلیجنس کے ٹرکوں میں موجود ہتھیار اور گولہ بارود کے کریٹ کھولتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

ترکی کی حال ہی منتخب ہونے والی حکومت کی جانب سے صحافیوں سے متعلق سخت موقف اختیار کرنے پر ملک بھر کے سوشل میڈیا صارفین کی طرف سے شدید احتجاج سامنے آیا ہے۔ آزمودہ کار صحافی اور اخبار جمہوریت کے ایڈیٹر اینڈ چیف، 54 سالہ دُندار اور جمہوریت کے انقرہ کے بیورو چیف گُل دونوں کو حراست میں لے لیے جانے پر اخبار حُریت ہی کے ایک سابق چیف ایڈیٹر اوُتکو جاکیروزر نے ایک بیان دیتے ہوئے کہا،’’ان گرفتاریوں سے صحافت کو آزمائش میں ڈالا جا رہا ہے اور ترک پریس کو خوفزدہ کیا جا رہا ہے‘‘۔

Syrien Turkmenen in Nord-Syrien

شمالی شامی علاقوں میں سرگرم تُرکمن جنگجو

آج استنبول کی سڑکوں پر آزادیء صحافت پر قدغن کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین نے سڑکوں پر نکل کر ایردوان مُردہ باد کے نعرے لگائے اور اُن کی جماعت AK پارٹی پر دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ کے ساتھ تعاون کرنے کا الزام عائد کیا۔

اُدھر ترکی کے حزب اختلاف کے روزنامے ’’جمہوریت‘‘ میں چھپنے والی سُرخیوں میں آج کے دن کو ’’ پریس کے لیے سیاہ دن‘‘ قرار دیا گیا۔

کُرد نواز پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی کی ایک شریک لیڈر فیگن یُکسیدگ نے احتجاجی مظاہرے کے دوران بیان دیتے ہوئے کہا، ’’یہ سیاہ آپریشن دراصل ترک خفیہ سروسز کے ٹرکوں کے ذریعے کیے جانے والے جرائم کی پردہ پوشی کے لیے کیا گیا ہے‘‘۔

DW.COM