1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ترکی میں صحافیوں سمیت 38 افراد گرفتار

ترکی میں کرد کارکنوں اور مسلح علیحٰدگی پسندوں کے ساتھ تعلقات کے شبے میں کم از کم اڑتیس افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جن میں سے بیشتر صحافی ہیں۔

default

سکیورٹی حکام اور میڈیا رپورٹوں کے مطابق یہ گرفتاریاں منگل کو علی الصبح ترکی کے مختلف شہروں میں عمل میں آئی ہیں، جو کرد کارکنوں سے متعلق تفتیش کا حصہ ہیں۔

ان چھاپوں کے دوران پچیس افراد کو استنبول سے گرفتار کیا گیا ہے، جن میں سے بیشتر صحافی ہیں۔ روئٹرز نے اپنے عینی شاہدوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس کو فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے فوٹو گرافر Mustafa Ozer کو ان کے گھر سے لے جاتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ ترکی میں اے ایف پی کے دفتر نے ان کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔

ترکی کے سرکاری خبر رساں ادارے اناطولیہ کے مطابق کرد نواز خبر رساں ادارے Dicle سے منسلک دس سے زائد صحافیوں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ اس نیوز ایجنسی کے ایک وکیل کا کہنا ہے کہ استنبول میں اس کے دفتر میں اب صرف پولیس ہی موجود ہے، جو کمپیوٹر ہارڈ ڈرائیوز اور دستاویزات کی نقل بنا رہی ہے۔

اس وکیل کے مطابق انہیں ابھی اس بات کی خبر نہیں کہ کتنے صحافیوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کے مسلح گروہ سے

Türkei Ministerpräsident Recep Tayyip Erdogan in Ankara

ترکی کے وزیر اعظم رجب طیب ایردوان

روابط کے الزام میں سینکڑوں افراد گرفتار ہیں، جن میں منتخب میئرز بھی شامل ہیں۔

سی این این ترک ٹیلی وژن کے مطابق پولیس نے ترکی بھر میں دیگر خبر رساں اداروں کے دفاتر کی تلاشی بھی لی ہے، جس کے دوران دستاویزات اور کمپیوٹر قبضے میں لیے گئے ہیں۔

ترکی میں پہلے ہی تقریباﹰ ستّر صحافی جیلوں میں ہیں۔ یہ تعداد دُنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ وہ دیگر جرائم کی وجہ سے قید ہیں، اپنے کام کی وجہ سے نہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق صحافیوں کی مزید گرفتاریوں سے ان الزامات کو ہوا مل سکتی ہے کہ وزیر اعظم رجب طیب ایردوان کی حکومت اختلافِ رائے برداشت نہیں کر سکتی اور میڈیا کو اپنے تابع کرنا چاہتی ہے۔ تاہم ملک کی شرح نمو میں تیز تر ترقی کی وجہ سے، ان گرفتاریوں پر عوامی عدم اطمینان کا امکان نہیں ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل / خبر رساں ادارے

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس