1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ترکی میں شراب نوشی کے قوانین سخت بنا دیے گئے

ترکی میں شراب نوشی پر پابندی کے حوالے سے متعارف کرائے گئے قوانین کا اطلاق ہو گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہاں سیکولر مکتبہ فکر کی اس تشویش میں بھی اضافہ ہوا ہے کہ روزمرّہ زندگی پر اسلام پسندوں کا اثرورسوخ بڑھ رہا ہے۔

default

شراب نوشی پر پابندی کے لیے یہ قوانین تمباکووشراب نوشی کے نگران ادارے نے رواں ماہ کے آغاز پر متعارف کرائے تھے، جن کا نفاذ بدھ کو عمل میں آیا ہے۔ استنبول میں نئی ویمپائر فلم کی افتتاحی تقریب کے مہمان اس قانون کے پہلے ’شکار‘ بنے۔

استنبول میں بدھ کی شام ایک مزاحیہ ڈراؤنی فلم ’سیکرڈ ڈیمی جان ڈریکولا‘ کی افتتاحی تقریب ہوئی، جسے ان قوانین کی زد میں آنے والی پہلی پارٹی قرار دیا جا رہا ہے۔ فلم پروڈیوسر سینول سینگز نے خبررساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ سنیما انتظامیہ نے انہیں مہمانوں کو شراب نہ پیش کرنے کی ہدایت کی تھی، کیونکہ انہیں جرمانے کا ڈر تھا۔ انہوں نے کہا، ’حکومت نے زیادہ سے زیادہ آزادی اور جمہوری اقدار کے نفاذ کا وعدہ کیا تھا لیکن اس کے اقدامات سے ان وعدوں کے بر عکس متضاد رویے کی نشاندہی ہوتی ہے۔‘

Recep Tayyip Erdogan Türkei

ترک وزیر اعظم وزیر اعظم رجب طیب اردوآن

ان اقدامات سے سیکولر حلقوں کی جانب سے ایک مرتبہ پھر یہ الزام سامنے آیا ہے کہ وزیر اعظم رجب طیب اردوآن کی حکومت عوام کو اسلامی اقدار اپنانے پر مجبور کرتے ہوئے ان کے طرز زندگی میں مداخلت کر رہی ہے۔

دوسری جانب انقرہ بار ایسوسی ایشن نے اعلان کیا ہے کہ ان قوانین کو ملک کی اعلیٰ انتظامی عدالت میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔ مذکورہ ایسوسی ایشن نے عدالت کے نام درخواست میں کہا ہے، ’ان قوانین کا مقصد عوام کی بھلائی نہیں بلکہ معاشرے کو ایک نیا طرز زندگی اختیار کرنے پر مجبور کرنا ہے۔‘

ان قوانین کے تحت پارٹیوں یا ہوٹلوں میں شراب پیش کرنے کے لیے ضروری لائسنس کی شرائط سخت بنا دی گئی ہیں۔ شراب کی مارکیٹنگ پر بھی پابندیاں لگائی گئی ہیں جبکہ اس کی فروخت اسٹوروں کے مخصوص حصوں تک محدود کر دی گئی ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM