1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ترکی میں سیاسی جمود، آؤلو کو عبوری حکومت سازی کی ذمہ داری

ترکی کے وزیراعظم احمد داؤد آؤلو کو عبوری حکومت سازی کی دعوت دی گئی ہے جو ملک میں ہونے والے نئے انتخابات کرانے کی ذمہ دار ہو گی۔ ترکی میں نئے انتخابات یکم نومبر کو متوقع ہیں۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن کی طرف سے احمد داؤد آؤلو کو عبوری حکومت سازی کی دعوت آج منگل 25 اگست کو دی گئی ہے۔ خیال رہے کہ رواں برس جون میں ہونے والے انتخابات میں صدر ایردوآن کی سیاسی جماعت جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی سمیت کسی بھی جماعت کو حتمی اکثریت نہیں مل سکی تھی اور نہ ہی کوئی جماعت اتحادی حکومت بنانے میں کامیاب ہو پائی۔ اسی وجہ سے پیر 24 اگست کو ایردوآن نے باقاعدہ طور پر ملک میں دوبارہ انتخابات کرانے کا اعلان کیا تھا۔

احمد داؤد آؤلو کو ایک عارضی کابینہ تشکیل دینے لیے پانچ دن کا وقت دیا گیا ہے۔ اس کابینہ میں اپوزیشن کرد نواز پیپلز ڈیموکریسی پارٹی کے ارکان کے علاوہ پارلیمان کے باہر سے غیر سیاسی شخصیات کو بھی شامل کیا جانا ہے۔ تاہم ملک کی دو اہم سیاسی جماعتیں ری پبلکننز پیپلز پارٹی اور نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی پہلے ہی عبوری حکومت میں شمولیت نہ کرنے کا اعلان کر چکی ہیں۔

ترک اپوزیشن جماعتیں صدر ایردوآن پر الزام عائد کرتی ہیں کہ انہوں نے حکمران جماعت کے آئندہ انتخابات میں ممکنہ کامیابی کی امید کے پیش نظر ملک میں حکومت سازی کی کوششوں کو جانتے بوجھتے ناکام کرایا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صدر رجب طیب ایردوآن نے وزیراعظم احمد داؤد آؤلو سے آج منگل کے روز نئے صدارتی محل میں بند دروازے کے پیچھے ملاقات کی اور انہیں یہ ذمہ داری سونپی۔ اے ایف پی کے مطابق جدید ترکی کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ اب تک ایسا کبھی نہیں ہوا کہ انتخابات کے بعد کوئی جماعت بھلے اس نے حتمی اکثریت حاصل نہ بھی کی ہو تو وہ اتحادی حکومت بنانے میں ناکام رہی ہو یا اس طرح سے دوبارہ انتخابات کرانے کی ضرورت پیش آئی ہو۔

ترک اپوزیشن جماعتیں صدر ایردوآن پر الزام عائد کرتی ہیں کہ انہوں نے حکومت سازی کی کوششوں کو جانتے بوجھتے ناکام کرایا

ترک اپوزیشن جماعتیں صدر ایردوآن پر الزام عائد کرتی ہیں کہ انہوں نے حکومت سازی کی کوششوں کو جانتے بوجھتے ناکام کرایا

ترکی کے NTV کے مطابق قبل از وقت انتخابات کے لیے حتمی تاریخ کے اعلان آج منگل ہی کے روز دیر تک سامنے آنے کا امکان ہے تاہم ایردوآن قبل ازیں ایک پریس کانفرنس کے دوران اشارہ دے چکے ہیں کہ پارلیمانی انتخابات کی تاریخ یکم نومبر ہو سکتی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق گزشتہ انتخابات کی طرح صدر رجب طیب ایردوآن کو ان انتخابات سے بھی یہی توقع ہو گی کہ ان کی سیاسی جماعت جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹیAKP ایک مضبوط جماعت کے طور پر ابھرے گی اور ان آئینی تبدیلیوں کی حمایت کر سکے گی جن کے مطابق ایردوآن امریکا اور فرانس کی طرح صدر کے عہدےکے لیے تمام تر ایگزیکٹیو اختیارات دینے کے حامی ہیں۔ اس مقصد کے لیے AKP کو کم از کم 60 فیصد نشستوں پر کامیابی حاصل کرنا ہو گی۔