1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ترکی میں سزائے موت سے متعلق ریفرنڈم ، جرمنی میں پولنگ ناممکن

جرمن حکومت نے اس امر کو خارج از امکان قرار دیا ہے کہ اگر ترکی میں سزائے موت کی بحالی کے لیے ریفرنڈم کرایا گیا تو جرمنی میں آباد ترک ووٹرز کی اس میں شمولیت کے لیے جرمنی میں پولنگ اسٹیشن بنائے جا سکتے ہیں۔

خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے بتایا ہے کہ جرمنی میں سکونت پذیر ترک ووٹرز ایسے کسی ممکنہ ریفرنڈم میں شرکت سے محروم رہیں گے، جس میں ترکی میں سزائے موت کی بحالی پر کوئی عوامی فیصلہ کرانے کی کوشش کی جائے گی۔ ترک صدر رجب طیب ایردوآن ملک میں سزائے موت کی بحالی کے حوالے سے کئی بار یہ اشارے دے چکے ہیں کہ وہ یہ سزا قانوناﹰ بحال کرنا چاہتے ہیں۔

ترک ریفرنڈم پر تنقید، ایردوآن برہم

ترک ریفرنڈم: نتائج قانوناﹰ کتنے درست ہیں؟ ڈی ڈبلیو کا تبصرہ

کیا ترکی میں سزائے موت پھر سے متعارف کروائی جانے والی ہے؟

 جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے ترجمان اشٹیفان زائبرٹ کے مطابق اگر ترکی میں ایسا کوئی ریفرنڈم کرایا جاتا ہے تو جرمنی میں اس کے لیے پولنگ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ابھی تک اس حوالے سے انقرہ نے برلن کو کوئی درخواست ارسال نہیں کی ہے۔ جرمنی میں 1.41 ملین ترک ووٹرز بھی آباد ہیں، جن کی اکثریت نے حالیہ ترک ریفرنڈم میں بھی اپنا حق رائے دہی استعمال کیا تھا۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے ترجمان اشٹیفان زائبرٹ نے آج بروز جمعہ کہا کہ یہ ناقابل تصور ہے کہ جرمنی ایک ایسی ووٹنگ پر آمادہ ہو جائے، جو ملکی اور یورپی آئینی اقدار کے منافی ہو۔ انہوں نے کہا کہ اگر ترکی میں ایسا کوئی ریفرنڈم منعقد کرایا جاتا ہے تو جرمنی میں ترک سفارتخانے یا قونصل خانوں میں اس سلسلے میں ووٹنگ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے البتہ کہا کہ دیگر یورپی ممالک کو اس حوالے سے خود فیصلہ کرنا ہوگا۔

جرمنی میں آباد ترک ووٹرز میں سے قریب دو تہائی یعنی 63.1 فیصد نے حالیہ ترک ریفرنڈم میں آئینی ترامیم کے حق میں ووٹ دیا تھا، جس کے بعد ترکی میں صدارتی نظام متعارف کرانے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ یوں ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے اختیارات میں بے پناہ اضافہ ہو جائے گا۔ ترکی میں اپوزیشن کا کہنا ہے کہ پارلیمانی نظام کے ختم ہونے سے طاقت کا محور ایک فرد بن جائے گا اور یہ جمہوری اقدار کے منافی ہو گا۔

Türkei Istanbul Rede Erdogan (Getty Images/AFP/O. Kose)

ایردوآن سزائے موت کی بحالی کے حوالے سے کئی بار یہ اشارے دے چکے ہیں کہ وہ یہ سزا قانوناﹰ بحال کرنا چاہتے ہیں

ترکی میں گزشتہ برس جولائی میں ناکام فوجی بغاوت کے بعد انقرہ حکومت نے اپنے مخالفین کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کر دیا تھا، جس کا سلسلہ آج تک جاری ہے۔ اسی تناظر میں ایردوآن نے ’باغی عناصر‘ کے خلاف کارروائی کی خاطر مجرموں کو سزائے موت دینے کی بحالی کا کئی بار عندیہ بھی دیا۔ انہوں نے کہہ رکھا ہے کہ اس تناظر میں ملکی عوام کو فیصلے کا اختیار دیا جائے گا۔

اگر ترکی میں سزائے موت بحال کر دی گئی، تو ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت کی کوششیں ناکام ہو جائیں گی۔ ترکی میں سن دو ہزار چار میں سزائے موت پر عملدرآمد پر پابندی عائد کر دی گئی تھی، جس کا مقصد یورپی یونین میں شمولیت کی خواہش ہی تھی۔ جرمنی میں آئندہ پارلیمانی الیکشن میں چانسلرشپ کے لیے سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار مارٹن شُلس کہہ چکے ہیں کہ یورپی یونین سزائے موت کی اجازت نہیں دیتی اور اس لیے ترکی میں اس طرح کا کوئی بھی ریفرنڈم یورپی اقدار کے منافی ہو گا۔

DW.COM