1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ترکی میں زلزلے کے بعد عارضی رہائش گاہوں کی کمی

ترکی میں چار روز قبل آنے والے زلزلے کے نتیجے میں ہلاک شدگان کی تعداد پانچ سو سے بھی بڑھ گئی ہے۔ انقرہ حکومت سرچ آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے تاہم اب زلزلے کے متاثرین کے لیے عارضی رہائش گاہوں پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔

default

ترکی کے جنوب مشرقی علاقوں میں آنے والے شدید زلزلے کے نتیجے میں زخمیوں کی تعداد ساڑے سولہ سو سے متجاوز ہو گئی ہے۔ اس زلزلے سے سب سے زیادہ نقصان صوبے وان کو پہنچا، جہاں بے گھر ہو جانے والے متاثرین کے لیے عارضی پناہ گاہوں کا مسئلہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ وان صوبے کے ایرکش نامی علاقے میں ایک لاکھ زلزلہ متاثرین شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

خراب موسم اور بارش کے بعد اس علاقے میں آج جمعرات کو برف باری بھی ہوئی، جس کی وجہ سے موسم میں شدت پیدا ہو گئی ہے۔ اس صورتحال میں زلزلے سے متاثر ہونے والے اڑتیس سالہ فتح زنگین نے خبر ایجنسی روئٹرز کو بتایا، ’ہر کوئی بیمار ہو رہا ہے۔ اس آفت کو گزرے چار دن ہو گئے ہیں اور ہم ابھی تک مدد کے منتظر ہیں لیکن کچھ نہیں کیا گیا‘۔

Lage nach schwerem Erdbeben in der Türkei

متاثرہ علاقوں میں عارضی پناہ گاہوں کا مسئلہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے

اس زلزلے کے نتیجے میں فتح زنگین کا گھر بھی بری طرح متاثر ہوا۔ اس نے بتایا کہ اس کے گھرانے میں دس بچے بھی شامل ہیں اور وہ گزشتہ چار دنوں سے پلاسٹک کے ایک خیمے میں راتیں گزار رہیں ہیں۔ ’’بچے بیمار ہو رہے ہیں، ہر کسی کو خیمہ چاہیے۔ برف باری کا سلسلہ شروع ہونے والا ہے اور یہاں تباہی کا عالم ہے۔‘‘

ترک ذرائع ابلاغ کے مطابق کئی علاقوں میں ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے سرچ آپریشن روک دیا گیا ہے۔ تاہم کچھ علاقوں میں اب بھی امید برقرار ہے کہ ممکنہ طور پر ابھی تک ملبے تلے دبے لوگوں کو زندہ نکالا جا سکتا ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق وان میں امدادی کارکنان نے انیس سال کے ایک نوجوان کو 91 گھنٹے تک ملبے کے نیچے دبے رہنے کے بعد زندہ نکال لیا ہے۔

امدادی ادارے ترک ہلال احمر نے کہا ہے کہ زلزلہ متاثرین کے لیے ریلیف اور سرچ کی کارروائیوں میں انتظامی مسائل درپیش ہیں۔ اگرچہ ترک حکومت نے کہا تھا کہ اس آفت کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے اسے بیرونی مدد کی ضرورت نہیں تاہم اب اس نے بیرونی امداد قبول کرنے کی حامی بھر لی ہے۔

جرمنی اور اسرائیل سمیت کئی ممالک نے خیمے، تیار شدہ عارضی گھر اور کنٹینر ترکی کے متاثرہ علاقوں میں پہنچانے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ کئی ممالک نے اپنے ماہرین بھی ترکی بھیجے ہیں، جو وہاں ریلیف اور سرچ کی کارروائیوں میں ترک حکام کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔

ناقدین کے خیال میں ترکی کے کرد اکثریتی علاقے میں آنے والی اس قدرتی آفت سے نمٹنے کے لیے حکومتی اقدامات اس لیے بھی اہم ہیں کہ اس طرح وہاں متاثرہ افراد کو احساس ہو سکے گا کہ وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن کی حکومت ان کے ساتھ کس حد تک مخلص ہے۔ کرد باشندے انقرہ حکومت پر الزام عائد کرتے ہیں کہ ان کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔

کرد باغیوں کی طرف سے گزشتہ تین دہائیوں سے جاری مسلح بغاوت کے نتیجے میں کم ازکم چالیس ہزار افراد مارے جا چکے ہیں۔ ترکی کے ساتھ ساتھ امریکہ اور یورپی یونین نے بھی کر د باغیوں کی تنظیم PKK کو ایک دہشت گرد گروپ قرار دے رکھا ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس