ترکی میں داعش کے خلاف بڑی کارروائی | حالات حاضرہ | DW | 05.02.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ترکی میں داعش کے خلاف بڑی کارروائی

ترک حکومت گزشتہ دنوں کے دوران ملک میں ہونے والے زیادہ تر دہشت گردانہ حملوں کی ذمہ داری داعش پر عائد کرتی ہے۔ اب ترک پولیس نے مشتبہ دہشت گردوں کے خلاف ایک کامیاب کارروائی کرتے ہوئے کئی سو افراد کو گرفتار کیا ہے۔

ترک حکام نے بتایا ہے کہ ملک بھر میں مارے جانے والے چھاپوں کے دوران دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ یا داعش سے تعلق رکھنے کے شک میں چار سو سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ گرفتار شدگان میں سے زیادہ تر غیر ملکی ہیں۔

پولیس نے ان گرفتاریوں کے تفصیلات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ملک کے جنوب مشرقی شہر شانلیعرفا سے ڈیڑھ سو جبکہ شامی سرحد کے قریب واقع شہر غازی انتیپ سے سینتالیس افراد کو گرفتار کیا گیا۔ اسی طرح دارالحکومت انقرہ میں پولیس نے ساٹھ افراد کو اپنی تحویل میں لیا ہے۔ ساتھ ہی استنبول، ازمیر، قونیا، ادانا اور انادولو کے علاوہ دیگر بڑے شہروں میں بھی پولیس نے کارروائی کی۔

ابھی حال ہی میں سال نو کے موقع پر استنبول کے ایک نائٹ کلب پر حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔ اس واقعے میں انتالیس افراد مارے گئے تھے۔ اس حملہ کا اصل ذمہ دار اس وقت پولیس کی تحویل میں ہے۔  ترک فوج بھی اگست 2016 سے شام میں اس دہشت گرد تنظیم کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے۔

ترک خبر رساں ادارے انادولو کے مطابق ملکی فضائیہ نے شمالی شامی شہر الباب میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران داعش کے کئی ٹھکانوں پر حملے کیے ہیں۔ انادولو نے دعوی کیا ہے کہ اس کارروائی میں اسلامک اسٹیٹ کے کم از کم تینتیس جنگجو یا تو مارے گئے ہیں، یا زخمی ہیں یا پھر انہیں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اتوار کی صبح ہی سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے کہا تھا کہ اسلامک اسٹیٹ نے الباب کے قریب شہر بزاعہ پر دوبارہ سے قبضہ کر لیا ہے۔ آبزرویٹری کے مطابق اس دوران اس شدت پسند تنظیم نے ترک حمایت یافتہ جنگجوؤں کو شدید کارروائی کی، جس میں خود کش بمبار بھی شامل تھے۔