1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ترکی میں ’جہاد ‘ درسی نصاب میں شامل، علویوں کو تشویش

ترکی کی سب سے بڑی مذہبی اقلیت ’علویوں‘ میں اس خبر سے بے چینی پائی جاتی ہے کہ ترک اسکولوں کے نصاب میں جہاد کے موضوع کو شامل کیا جا رہا ہے۔ انقرہ حکومت کے مطابق  اس موضوع کے تحت باطنی روحانی جد وجہد کی تعلیم دی جائے گی۔

سیاسی  ہلچل کو ختم کرنے اور اپنی طاقت کو مستحکم بنانے کے لیے ترک صدر رجب طیب ایردوان نے اپنے بعض  زیادہ آزاد خیال عزائم کو بالائے طاق رکھ چھوڑا ہے۔ ترک صدر کا جھکاؤ جیسے جیسے سخت گیر قوم پرستوں اور اسلام پسندوں کی طرف بڑھ رہا ہے، دو کلیدی منصوبے ، ملک کی سب سے بڑی نسلی اقلیت یعنی کردوں کے ساتھ امن عمل اور سب سے بڑی مذہبی اقلیت یعنی علویوں کومواقع دینا، سرد خانے میں پڑے ہیں۔

ترکی کی حکومت رواں سال ستمبر سے جہاد کے موضوع کو تعلیمی نصاب میں ایک پائلٹ پروگرام کے حصے کے طور پر متعارف کرا رہی ہے۔ اس کے بدلے میں ارتقاء کے مضمون کو نصاب سے خارج کر دیا جائے گا۔

اس اقدام نے ملک میں علویوں کو چونکا کر رکھ دیا ہے جو ترکی کی اسّی ملین آبادی کا بیس فیصد ہیں۔ ایک علوی گروپ کے صدر ایردوان ڈونر کا کہنا ہے،’’ اسکولوں میں جہاد کی بطور مذہبی خدمت یا عبادت تعلیم  داعش کے عقائد کے عین مطابق ہے اور بہت خطرناک ہے۔‘‘ یہاں یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ علوی مذہبِ اسلام کے شیعہ دھارے سے قریب  ہیں جبکہ ترکی میں اکثریت سنی مسلک سے منسلک مسلمانوں کی ہے۔

ترک حکومت کا کہنا ہے کہ لفظ ’جہاد‘ کا انتہا پسندوں کی جانب سے غلط استعمال کیا گیا ہے اور  ان میں وہ گروہ بھی شامل ہیں جو ’مقدس جنگ‘ کا تصور پیش کرتے ہیں۔ انقرہ حکومت کے مطابق جہاد کے مضمون میں وطن پرستانہ تناظر کے ساتھ باطنی روحانی جدوجہد پر توجہ مرکوز رکھی جائے گی۔

دوسری جانب علوی رہنماؤں کا اعتراض ہے کہ اسکولوں میں اُن کے بچوں کو سنی مسلک کے حساب سے تعلیم دی جاتی ہے، جس سے ترک معاشرے میں علویوں کی مسخ شدہ تصویر سامنے آ رہی ہے۔

فیڈریشن آف علوی فاؤنڈیشن کے رمزی اکبولوت کہتے ہیں،’’ ریاست علوی ازم کو عقیدے کے طور پر نہیں بلکہ بطور ثقافت یش کرتی ہے۔‘‘

امریکی محکمہ خارجہ نے مذہبی آزادی کے حوالے سے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ علوی مسلمانوں کو اظہار ناپسندیدگی اور تشدد کی دھمکیوں کا سامنا ہے۔‘‘

علوی  مساجد میں عبادت نہیں کرتے بلکہ اس مقصد کے لیے الگ جگہ بنائی جاتی ہے۔ اس جگہ کو ترک زبان میں ’جیمے وی‘ کہا جاتا ہے۔ ترک حکومت ان عبادت گاہوں کو تسلیم نہیں کرتی لیکن سنی مسلمانوں کی مساجد کو مالی امداد دی جاتی ہے۔

انسانی حقوق کی یورپی عدالت نے گزشتہ برس فیصلہ دیا تھا کہ ترکی علویوں کی فنڈنگ روک کر اُن کے حقوق کی حق تلفی کا مرتکب ہو رہا ہے۔

ترک وزارتِ تعلیم نے اس رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ترک وزیر تعلیم نے تاہم حال ہی میں کہا تھا کہ،’’ جہاد کا اصل مطلب اپنے ملک سے محبت اور امن کو یقینی بنانا ہے۔‘‘

DW.COM