1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ترکی میں ای سی او کے دس سربراہان مملکت کا اجتماع

ترکی کی میزبانی میں آج اقتصادی تعاون کی تنظیم ECO کا سربراہی اجلاس منعقد ہو رہا ہے۔ اس اجلاس میں پاکستان، ایران اور افغانستان سمیت وسطی ایشیائی ممالک کے سربراہان شرکت کر رہے ہیں۔

default

پاکستان، ایران، افغانستان اور وسطی ایشیا کے سربراہان کو جمع کرنا ترکی کے خطے میں بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی نشاندہی کر رہا ہے۔ اقتصادی تعاون کی تنظیم ECO کے دس رکن ملکوں کے اس سربراہی اجلاس کے بہت زیادہ فائدہ مند ثابت ہونےکی امید کافی کم ہے۔ ماہرین کہہ رہے ہیں کہ کوئی خاص پیشرفت تو دیکھنے میں نہیں آئے گی لیکن اتنے اہم سربراہان کی موجودگی ہی بہت اہمیت کی حامل ہے۔

ایشیا کو یورپ سے ملانے والے اس ملک کو، جس کے پاس تیل اور گیس کے وسیع ذخائر موجود ہیں، ان دنوں بعض تنازعات کا سامنا ہے۔ ترکی خطے کی اہم اقتصادی اور سیاسی طاقت ہے۔ اس ملک کی معاشی صورتحال نہ صرف مستحکم ہے بلکہ اس میں آئے دن ترقی ہورہی ہے۔

Türkei Istanbul Moschee

مسلم اکثریتی آبادی والا ملک ترکی طویل عرصے سے یورپی یونین میں شمولیت کا خواہش مند ہے

ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کی اس اجلاس میں شرکت ثابت کرتی ہےکہ ترکی کے پاس ایک ایسے خطے میں نیٹ ورکنگ کی صلاحیت موجود ہے، جہاں عالمی طاقتیں ساتھی تلاش کرنے میں لگی ہوئی ہیں۔ احمدی نژاد ایک ماہ قبل بھی ترکی کا دورہ کر چکے ہیں۔گزشتہ روز ہی ایرانی صدر نے ترک وزیراعظم رجب طییب ایردوآن سے اکیلے میں بات چیت کی تھی۔

ترکی مسلم دنیا کی وہ ابھرتی ہوئی جمہوریت ہے، جس نے یورپی یونین کا رکن بننے کی درخواست بھی جمع کروائی ہوئی ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ ترکی اس اجلاس سے یہ ظاہر کرے گا کہ خطے میں اسے سیاسی اعتبار سےکسی مسئلے کا سامنا نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ایک کامیاب خارجہ پالیسی کو ثابت کرنےکا بھی یہ ایک اچھا موقع ہے۔

اس وقت اسلام آباد اور تہران کےدرمیان تعلقات قدرے کشیدہ ہیں۔ لیکن اس کے باوجود پاکستان اور ایران کے سربراہان مملکتECO کے اس جلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ افغان صدر حامد کرزئی کی شرکت کی بھی تصدیق کر دی گئی ہے۔

Gipfeltreffen der Economic Cooperation Organization ECO in Teheran Iran

گزشتہ سال کے اجلاس میں پاکستانی صدر آصف زرداری اپنے ایرانی ہم منصب احمدی نژاد کے ہمراہ

اس سے قبل ایک اجلاس میں ترک وزیر خارجہ احمد داوتگلو نےکہا تھا کہ اُن کا ملک ایشیا اور یورپ کے مابین تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی کوششوں میں لگا ہوا ہے۔

سیاسی امور کے ماہر ہینری بیکرکا کہنا ہے کہ ترکی اپنے آپ کو ایک عالمگیر قوت کے طور پر دیکھتا ہے اور وہ ECO کے اجلاسوں کو خطے میں اسی تناظر میں استعمال کرتا آیا ہے۔

اقتصادی تعاون کی تنظیم ECO بنانے کا مقصد خطے میں تجارت کو فروغ دینےکے ساتھ ساتھ اقتصادی شعبےکومزید مستحکم کرنا بھی ہے۔ افغانستان، پاکستان، آذر بائیجان، ایران، قازقستان، کرغیزستان، تاجکستان، ترکمانستان، ازبکستان اور ترکی اس تنظیم کے رکن ممالک ہیں۔

رپورٹ : عدنان اسحاق

ادارت : شادی خان سیف

DW.COM