1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ترکی میں امریکی سینیٹر، سی آئی اے کے سابق سربراہ کے خلاف تفتیش

ترکی میں ریاستی دفتر استغاثہ نے امریکی سینیٹر چک شومر اور خفیہ ادارے سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر جان برینن سمیت سترہ شخصیات کے خلاف ان کے ترک مبلغ فتح اللہ گولن کے ساتھ مبینہ رابطوں کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

CIA Direktor - John Brennan (Getty Images/AFP/J. Watson)

امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر جان برینن

ترکی کے شہر استنبول سے ہفتہ پندرہ اپریل کو موصولہ نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق سرکاری خبر رساں ادارے انادولو نے بتایا کہ ترک اسٹیٹ پراسیکیوٹرز آفس کی استنبول شاخ کے سربراہ نے امریکا میں مقیم جن 17 شخصیات کے خلاف باقاعدہ چھان بین شروع کر دی ہے، ان میں امریکی سینیٹ کے رکن چک شومر اور جان برینن کے علاوہ سابق امریکی اٹارنی پریت بھرارہ بھی شامل ہیں۔ چک شومر امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹ ارکان کے پارلیمانی گروپ کے سربراہ ہیں۔

جرمنی میں بیس ترک شہریوں کے خلاف جاسوسی کے شبے میں تحقیقات

جرمنی فوجی بغاوت کے منصوبہ سازوں کی حمایت کر رہا ہے، ترکی

امریکی پالیسیوں پر ’مایوس‘ ہوں، ترک صدر

انادولو نے ہفتے کے روز بتایا کہ استنبول میں ریاستی دفتر استغاثہ کی طرف سے اس چھان بین کا آغاز ترک وکلاء کے ایک گروپ کی طرف سے دائر کی گئی مجرمانہ نوعیت کی ایک شکایت کے بعد کیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ دفتر استغاثہ کی طرف سے ان سترہ شخصیات کے گولن تحریک کے ساتھ مبینہ رابطوں کی چھان بین کی جائے گی۔

USA Washington Senatoren John Cornyn und Chuck Schumer (Getty Images/D. Angerer)

امریکی سینیٹ کے ڈیموکریٹ رکن چک شومر، دائیں، کا تعلق ریاست نیو یارک سے ہے

Fethullah Gulen (Reuters/C. Mostoller)

ترک مبلغ فتح اللہ گولن کی امریکی ریاست پینسلوانیا میں ان کی رہائش گاہ پر لی گئی ایک تصویر

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اس باقاعدہ تفتیش کا آغاز ایک ایسا قانونی اقدام ہے، جس کے نتیجے میں کسی بھی مشتبہ فرد کے خلاف ترک حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش اور ایک دہشت گرد تنظیم کی رکنیت جیسے الزامات عائد کیے جا سکتے ہیں۔

ترک حکومت کا الزام ہے کہ امریکا میں پینسلوانیا میں مقیم ترک مبلغ فتح اللہ گولن اور ان کی تحریک ہی ترکی میں گزشتہ برس موسم گرما میں کی گئی انقرہ حکومت کے خلاف ناکام فوجی بغاوت کے اصل محرک تھے۔

انہی الزامات کے تحت انقرہ حکومت فتح اللہ گولن کی تحریک کو ایک دہشت گرد تنظیم بھی قرار دی چکی ہے جب کہ خود فتح اللہ گولن اپنے خلاف ترک حکمرانوں کے ایسے جملہ الزامات کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہیں۔

DW.COM