1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ترکی میں آئینی تبدیلیوں کے لئے ریفرنڈم، حکومت کی جیت

ترکی میں آئینی تبدیلی کے لئے کرائے گئے ریفرنڈم کے ووٹوں کی گنتی مکمل ہو گئی ہے۔ نتائج کے مطابق ووٹروں نے آئینی تبدیلیوں کی پرزور حمایت کی ہے۔ ’ہاں‘ کہنے والے ووٹروں کا تناسب 58 فیصد ہے۔

default

ترکی کے صدر رجب طیب اردوآن ووٹ ڈال رہے ہیں

یورپی یونین اور امریکہ نے ترکی میں آئینی اصلاحات کے لئے کرائے ریفرنڈم کا خیر مقدم کیا ہے۔ اُدھر اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اسلامی نظریات رکھنے والی حکمران جماعت عدلیہ پر اپنا اختیار خطرناک حد تک بڑھانا چاہتی ہے۔

Der türkische Außenminister und Presidentschaftskandidat Abdullah Gül

ترکی کے صدر عبداللہ گُل

قبل ازیں رائے عامہ کے ایک جائزے میں بھی حکمران جماعت کو ریفرنڈم کی فاتح قرار دیا گیا تھا، جو یورپی یونین میں شمولیت کے لئے آئینی اصلاحات کو ناگزیر قرار دیتی ہے۔ انقرہ حکام کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات ملک میں جمہوری استحکام کے لئے بھی ضروری ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ جمہوریت مضبوط ہوئی تو ترکی کے یورپی یونین میں شامل ہونے کے راستے کی رکاوٹیں دُور ہو جائیں گی۔

آئین میں مجوزہ تبدیلیوں کے نفاذ کے بعد آئینی ڈھانچہ یورپی یونین کے مطابق ہو جائے گا۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ ان اصلاحات کے ذریعے حکمران جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی (AKP) کا عدلیہ میں دخل بڑھ جائے گا۔

اُدھر ترکی کے وزیر اعظم رجب طیب اردوآن نے کہا ہے، ’ہم نے جدید جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لئے ایک تاریخی دہلیز عبور کر لی ہے۔‘

خیال رہے کہ اردوآن کی حکمران جماعت خود کو یورپ کی کرسچن پارٹیوں کا مسلم رُوپ قرار دیتی ہے جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس پارٹی کا ایک پوشیدہ مسلم ایجنڈا ہے۔ ان کی رائے میں یہ جماعت ملک کو اسلام پسندی کی جانب لے جا رہی ہے۔

ترکی میں آئندہ برس عام انتخابات کا انعقاد کیا جا رہا ہے، اور اے کے پی تیسری مرتبہ برسراقتدار آنے کی کوشش کرے گی۔

ترکی کے صدر عبداللہ گُل نے بھی اپنی قوم سے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے، ’آنے والے کل سے ترکی کو متحد ہونے اور مستقبل میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔‘

Flash-Galerie Türkei Volksabstimmung

ایک خاتون ریفرنڈم کے لئے ووٹ کاسٹ کر رہی ہے

انہوں نے کہا کہ جمہوری نظام میں حرف آخر کا حق عوام کو حاصل ہے۔ انہوں نے کہا، ’میں سب کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ ریفرنڈم کے نتائج کو احترام سے قبول کریں۔’

انتخابات سے پہلے کرائے گئے رائے عامہ کے جائزے میں 56.8 فیصد افراد نے آئینی اصلاحات کے اس حکومتی منصوبے کی حمایت کی تھی۔ تاہم اس سروے میں 17.6 فیصد نے کوئی فیصلہ نہیں دیا تھا۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس