1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ترکی مہاجرین کے بحران کے حل میں مدد کرے، یورپی رہنما

یورپی رہنماؤں نے ترکی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مہاجرین کے بحران سے نمٹنے کے لیے مدد کرے۔ اس مقصد کے لیے یورپی یونین نے ترکی کو کچھ مراعات دینے کا عندیہ بھی دیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بتایا ہے کہ اگر ترکی مہاجرین کے بحران سے نمٹنے کے لیے یورپی یونین کی مدد کو تیار ہو جاتا ہے تو انقرہ حکومت کو کچھ رعایتیں دی جا سکتی ہے۔ مہاجرین کے بحران پر یورپی یونین کی سمٹ کے موقع پر جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے خبردار کیا ہے کہ ترکی کی مدد کے بغیر یورپی ممالک مہاجرین کے بحران سے نہیں نمٹ سکتے ہیں۔ یہ امر اہم ہے کہ ترکی نے دو ملین سے زائد شامی مہاجرین کو پناہ دے رکھی ہے۔

جمعرات کی شام برسلز میں یورپی یونین کی سمٹ کے موقع پر میرکل کا کہنا تھا، ’’ترکی کی مدد کے بغیر ہم مہاجرین کا مسئلہ حل نہیں کر سکتے ہیں۔‘‘ صرف رواں برس ہی چھ لاکھ مہاجرین جرمنی کا رخ کر چکے ہیں، جس کی وجہ سے برلن حکومت کو انتظامی مسائل کا سامنا ہے۔

دوسری طرف اس معاملے پر یورپی یونین کے رکن ممالک میں بھی اختلافات برقرار ہیں۔ ہنگری کی حکومت نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ اس نے کروشیا کے ساتھ لگنے والی ملکی سرحد پر باڑ لگانےکا کام مکمل کر لیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ملک میں غیرقانونی مہاجرین کے داخلے کو روکنا ہے۔ ہنگری کی حکومت کے مطابق اب وہ کروشیا کے ساتھ اپنی سرحد بند کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ اس سلسلے میں پولیس اور فوج کے دستے تعینات کیے جائیں گے جب کہ سرحد بند کرنے کا اعلان اگلے چند روز میں کر دیا جائے گا۔

ادھر ترکی نے مہاجرین کے مسئلے پر یورپی یونین کے ساتھ تعاون کے لیے ترک شہریوں کے لیے یورپی ویزوں میں آسانی اور تین ارب یورو اضافی امداد کا مطالبہ کیا ہے۔ ترکی کی جانب سے یورپی یونین سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ اسے ’محفوظ ملک‘ کا درجہ بھی دیا جائے۔

ڈی پی اے کے مطابق ترکی کو محفوظ ممالک کی یورپی فہرست میں شامل کر لیے جانے کے بعد اس کے شہریوں کو سیاسی پناہ نہیں دی جا سکے گی۔ یورپی ذرائع کے مطابق انسانی حقوق کے حوالے سے ترک کے ریکارڈ کے تناظر میں یہ مطالبہ تسلیم کرنا یورپی یونین کے لیے آسان نہیں ہو گا۔

Deutschland Flüchtlinge Hessen

مہاجرین کی آبادکاری پر یورپی یونین کے رکن ممالک میں بھی اختلافات برقرار ہیں

خبر رساں ادارے اے ایف پی یورپی سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ یورپی کمیشن ترکی کو تین بلین یورو کی امداد دینے پر رضا مند ہے۔ تاہم کچھ ذرائع کے مطابق ترکی اس حوالے سے ابھی تک ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ یورپ داخل ہونے والے زیادہ تر مہاجرین ترکی کا ہی راستہ استعمال کرتے ہیں۔

فرانسیسی صدر فرانسوا اولانڈ نے البتہ کہا ہے کہ اس بارے میں واضح قواعد وضع کرنے ہوں گے کہ اس معاملے پر مدد پر ترکی کو کیا پیشکش کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترک شہریوں کے لیے یورپی ویزوں میں آسانی کا فیصلہ میرٹ پر ہونا چاہیے۔