1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ترکی ميں مبينہ مظالم کے شکار افراد کو جرمنی کی طرف سے پناہ کی پیشکش

جرمن حکام کا کہنا ہے کہ برلن اُن ترک شہریوں کو اپنے ملک میں پناہ دینے کے لیے تیار ہے جو ترک صدر رجب طیب ایردوآن کی انتظاميہ کے مبينہ ظلم و ستم کا سامنا کر رہے ہیں۔

Berlin Michael Roth (picture-alliance/dpa/B. v. Jutrczenka)

جرمن سیکریٹری خارجہ نے کہا ہے کہ اُن کے ملک کے دروازے ہر اُس شخص کے لیے کھلے ہیں جسے سیاسی انتقام کا سامنا ہے

جرمنی کے سیکریٹری خارجہ میشائل روتھ نے قدامت پسند جرمن روزنامے ‘دی ویلٹ‘ سے بات کرتے ہوئے کہا،’’جرمنی ایک وسیع النظر ملک ہے اور بنیادی طور پر اِس کے دروازے ہر اُس شخص کے لیے کھلے ہیں جسے سیاسی انتقام کا سامنا ہے۔ ترکی میں حکومت کے تمام ناقدین جان لیں کہ وفاقی جرمن حکومت اظہارِ یکجہتی کے لیے اُن کے ساتھ کھڑی ہے۔‘‘

 خیال رہے کہ رواں برس جولائی میں ترکی میں ہونے والی ناکام فوجی بغاوت کے بعد صحافیوں اور سیاستدانوں کے خلاف صدر ایردوآن کی حکومت کا کریک ڈاؤن جاری ہے۔ ترک حکومت کا موقف ہے کہ یہ گرفتاریاں ترک مبلغ فتح اللہ گولن سے تعلق کے شبے میں کی جا رہی ہیں۔

 ترکی میں اس حکومتی کریک ڈاؤن کے نتیجے میں جولائی سے اب تک تقریباً 170 میڈیا ادارے بند کیے جا چکے ہیں جبکہ سو سے زائد صحافیوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ اس کارروائی میں جج، اساتذہ، پولیس اہلکار، سرکاری افسران، فوجی اہلکار اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ایک لاکھ دس ہزار سے زائد افراد کو گرفتار یا ان کی ملازمتوں سے برطرف کیا جا چکا ہے۔

DW.COM