1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

ترکی ميں حالات بہتر، مہاجرين نے يورپ جانا چھوڑ ديا

ايک رپورٹ کے مطابق ترکی اور يورپی يونين کے مابين اختلافات کے باوجود مہاجرين کی يورپ کی طرف غير قانونی ہجرت روکنے کے حوالے سے ڈيل پر عملدرآمد جاری ہے۔ اس کی ايک بڑی وجہ ترکی ميں مہاجرين کو فراہم کردہ سہوليات ميں بہتری ہے۔

ترکی ميں ناکام فوجی بغاوت کے بعد حکومت کا کريک ڈاؤن، ترک شہريوں کے ليے يورپی يونين ميں بغير ويزے سفر کا معاملہ اور ديگر کئی وجوہات کی بناء پر ترکی اور يورپی يونين کے مابين پچھلے ايک سال ميں کئی اختلافات سامنے آئے ہيں۔

 تاہم ان تمام تر اختلافات کے باوجود فريقين کے درميان مہاجرين کی ترکی کے راستے يورپی يونين کے رکن ممالک کی طرف غير قانونی ہجرت روکنے سے متعلق معاہدے پر عمل در آمد بخوبی جاری ہے اور مطلوبہ نتائج بھی برآمد ہو رہے ہيں۔

گزشتہ برس مارچ ميں طے پانے والے اس معاہدے پر حال ہی ميں جاری ہونے والی يورپی کميشن کی چھٹی رپورٹ کے مطابق ترکی سے بحيرہ ايجيئن کے راستے يونان پہنچنے والے تارکين وطن کی تعداد ميں خاطر خواہ کمی نوٹ کی گئی ہے۔

Infografik Flüchtlingsrouten in die EU ENG

ترکی سے يورپ کا رخ کرنے والے تارکين وطن کی تعداد ميں کمی کی ايک اہم وجہ ترکی ميں ان تارکين وطن کے ليے موجود سہوليات ميں بہتری ہے۔ انقرہ حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت 3.4 ملين پناہ گزين ترکی ميں رہائش پذير ہيں۔ يورپی يونين کے ساتھ طے پانے والی ڈيل کے تحت ملنے والی رقوم سے ترکی ميں مہاجرين کے ليے سہوليات کی فراہمی اور رہائش کے انتظامات کو يقينی بنايا جا رہا ہے اور ايسے کئی منصوبوں پر اس وقت بھی کام جاری ہے۔

 يورپی يونين نے ترکی کو اس مقصد کے ليے تين بلين يورو بطور امداد دينے ہيں۔ يورپی کميشن نے اپنی ايک حاليہ رپورٹ ميں اس امر کی تصديق کی کہ تين ملين سے زائد شامی، عراقی اور ديگر ممالک سے تعلق رکھنے والے پناہ گزينوں کی ضروريات پوری کرنا انقرہ حکومت کی ترجيح رہی ہے اور اسی سبب يورپ ميں مہاجرين کی آمد گھٹی ہے۔

يورپی کميشن کی رپورٹ ميں مزيد بتايا گيا ہے کہ 2016ء اور 2017ء کے ليے تين بلين يورو ميں سے اب تک 2.9 بلين يورو مختلف منصوبوں کے ليے مختص کيے جا چکے ہيں۔ ان ميں سے ڈيڑھ بلين سے زيادہ ماليت کے سينتاليس ترقياتی منصوبوں پر کام جاری ہے۔ ترکی کو اب تک 811 ملين يورو فراہم کيے جا چکے ہيں۔

 اس کے علاوہ مہاجرين کے ليے طبی سہوليات کی فراہمی، زبان سيکھنے کے کورسز اور بچوں کے ليے اسکول جانے کی اجازت اور سہولت ميں بہتری آئی ہے۔ يہ تمام چيزيں انسانی بنيادوں پر امداد کے يورپی يونين کی تاريخ کے سب سے بڑے منصوبے ’ايمرجنسی سوشل سيفٹی نيٹ‘ (ESSN) کی وجہ سے ممکن ہو سکی ہيں۔

دريں اثناء سمندری راستوں پر مہاجرين کو تلاش کرنے اور روکنے کے حوالے سے بھی اقدامات بڑھے ہيں۔ رپورٹ کے مطابق اس سلسلے ميں يورپی بارڈر ايجنسی اور کوسٹ گارڈز کے علاوہ ترک کوسٹ گارڈز بھی کافی سرگرم رہے ہيں۔ علاوہ ازيں ترکی کی جانب سے قانون سازی کی بدولت انسانوں کے اسمگلروں کو بھی شديد مشکلات درپيش ہيں اور تارکين وطن کو غير قانونی انداز ميں يورپ تک پہنچانےکے ليے اب انہيں کئی کئی مرتبہ کوشش کرنی پڑتی ہے، جس سے ان کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے۔

دوسری جانب يورپی کميشن کی رپورٹ ميں کئی چيلنجز کا بھی تذکرہ کيا گيا ہے۔ يونان ميں اب بھی واپس ترکی بھيجے جانے والوں کے مقابلے ميں زيادہ مہاجرين کی آمد ہو رہی ہے۔ ڈيل کے تحت عملدرآمد شروع ہو جانے کے بعد يونان پہنچنے والے تمام مہاجرين کو واپس ترکی بھيجا جانا تھا۔ اب تک دو ہزار سے بھی کم مہاجرين کو واپس ترکی روانہ کيا گيا ہے۔

DW.COM