1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

ترکی لاکھوں شامی مہاجرین کو شہریت کی پیش کش کرے گا، ایردوآن

ترک صدر رجب طیب ایردوآن کا کہنا ہے کہ وہ ملک میں موجود لاکھوں شامی مہاجرین کو ترکی کی شہریت حاصل کرنے کا موقع فراہم کریں گے۔ صدر کے ناقدین کے مطابق ایردوآن شامی باشندوں کو شہریت دے کر اپنا ووٹ بینک بڑا کرنا چاہتے ہیں۔

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کی استنبول سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق صدر ایردوآن نے کہا ہے کہ وہ شام سے ہجرت کر کے ترکی آنے والے لاکھوں مہاجرین کو مقامی شہریت کی پیشکش کرنا چاہتے ہیں۔

ہمیں واپس آنے دو! پاکستانی تارکین وطن

علی حیدر کو جرمنی سے ڈی پورٹ کیوں کیا گیا؟

ترکی کی سرکاری نیوز ایجنسی انادولو کے مطابق ایردوآن نے یہ بات ہفتہ دو جولائی کی شام ترک شامی سرحد پر واقع کیلیس نامی شہر میں شامی مہاجرین کے لیے اہتمام کردہ ایک افطار پارٹی کے موقع پر کہی۔ ایردوآن کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ہر وہ شامی مہاجر جو ترکی کی شہریت حاصل کرنے کا خواہش مند ہے، اسے یہ موقع ملنا چاہیے۔

ترک سربراہ مملکت کا مزید کہنا تھا کہ انقرہ میں ملکی وزارت داخلہ نے ان کی ہدایات پر اس ضمن میں متعدد اقدامات کیے ہیں تاہم انہوں نے ان اقدامات کی کوئی تفصیلات نہیں بتائیں۔

رجب طیب ایردوآن کے ناقدین کافی عرصے سے اس بات کا خدشہ ظاہر کرتے رہے ہیں کہ ایردوآن اور ان کی سیاسی جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی (اے کے پی) ملک میں موجود لاکھوں شامی مہاجرین کو شہری حقوق دے کر اپنا ووٹ بینک مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کے مطابق خانہ جنگی کے شکار ملک شام سے تعلق رکھنے والے 27 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ مہاجرین اس وقت نہ صرف ترکی میں پناہ لیے ہوئے ہیں بلکہ وہ پناہ دیے جانے پر صدر ایردوآن کے شکر گزار بھی ہیں۔ شام اور ترکی کی سرحد پر واقع ترک شہر کیلیس میں تو شامی مہاجرین کی تعداد وہاں کی مقامی آبادی سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔

ان شامی مہاجرین کے لیے افطار پارٹی کے موقع پر ترک صدر کا کہنا تھا، ’’میں اپنے شامی بہنوں اور بھائیوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ آپ ہمارے اپنے بہن بھائیوں جیسے ہیں۔ اگر آپ بھی ہمیں اسی نظر سے دیکھتے ہیں اور ہمیں اپنا ہی سمجھتے ہیں تو پھر یقین جانیے آپ اپنے وطن سے دور نہیں ہیں۔ ہاں، شاید آپ اپنے گھر اور ملک سے دور تو ہیں لیکن اب ترکی بھی آپ کا وطن ہے۔‘‘

جب یورپ میں قانونی رہائش کے لیے شادی بھی کام نہ آئے

یورپی کمیشن نے سیاسی پناہ کے نئے قوانین تجویز کر دیے

ویڈیو دیکھیے 02:29

’ہم واپس ترکی نہیں جانا چاہتے‘

DW.COM

Audios and videos on the topic