1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ترکی: فوجی سربراہوں کے ایک ساتھ استعفے

ترکی کے صدر عبداللہ گل نے آرمڈ فورسز کے لیے نئے سربراہ کا اعلان کردیا ہے۔ ترکی کے چیف آف سٹاف نے بری ، بحری، اور فضائی فوج کے چیفس کے ہمراہ اپنے عہدوں سے استعفے دے دیے تھے۔

default

ترکی کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل ایسیک کسنار (Isik Kosaner) کے مستعفی ہونے کے بعد ترک صدر عبداللہ گل نے جنرل نجدت اوزل (Necdet Ozel)کو مسلح افواج کا نیا چیف آف اسٹاف مقرر کردیا ہے۔ ایسی رپورٹ بھی ہے کہ جمعہ کے روز صدر عبداللہ گل، وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن اور جنرل ایسیک کسنار کے درمیان پچاس منٹ تک ایک ملاقات بھی ہوئی تھی۔

ترک حکومت کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ مسلح افواج کے سربراہان کو مستعفی ہونے کا مشورہ دیا گیا تھا۔ استعفوں کی وجہ فوجی سربراہوں کی رجب طیب ایردوآن حکومت کے ساتھ مختلف معاملات پر اختلافات بتائے گئے ہیں۔ گزشتہ ہفتوں کے دوران وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن اور جنرل ایسیک کسنار کے درمیان چند ملاقاتیں بھی ہوئی تھیں لیکن ان میں بھی اختلافات کو حل نہیں کیا جا سکا تھا۔ چند رپورٹس کے مطابق ان ملاقاتوں میں نئے فوجی افسروں کی ترقیوں پر بھی غور کیا گیا تھا۔ جنرل کسنار نے حریت نیوز گروپ کو بتایا کہ موجودہ صورت حال میں ان کے لیے اس اعلیٰ منصب پر موجود رہنا مشکل ہو گیا تھا کیونکہ وہ اپنی فوج کے ملازمین کے حقوق کی پاسداری نہیں کر سکے تھے۔ مستعفی ہونے والے فوجی سربراہ کو ایک سال قبل چیف آف سٹاف مقرر کیا گیا تھا۔

NO FLASH Türkei Armee Generäle

فوج اور حکومت کے درمیان تناؤ کی کیفیت کئی ماہ سے پیدا تھی

اگلے ہفتے کے دوران ترک فوج کی سپریم ملٹری کونسل کے اجلاس میں فوجی افسران کی ترقیوں کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔ انقرہ میں پھیلی اطلاعات کے مطابق ایردوآن حکومت سن 2003 کی ممکنہ فوجی بغاوت میں شریک افراد کو ترقی دینے کی مخالفت کر رہی تھی۔ دوسری جانب فوج کے اعلیٰ افسران بعض ایسے فوجی افسران کی پروموشن کے حق میں تھے جن پر شبہ کیا گیا تھا کہ وہ آٹھ سالہ پرانی مبینہ بغاوت میں کسی نہ کسی طور ملوث تھے۔

فوج کے سربراہاں کئی فوجی افسران پر مقدموں پر بھی عدم اطمینان کا شکار تھے۔ ترکی میں گزشتہ چند سالوں کے دوران سیکیولر خیالات کی حامل فوج اور رجب طیب ایردوآن حکومت کے درمیان تناؤ میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا۔ فوجی سربراہوں کے استعفوں کی اطلاع اس عدالتی فیصلے کے بعد سامنے آئی ہے جس میں بائیس مشتبہ افراد پر حکومت کو بدنام کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ ان مشتبہ افراد میں کئی جنرل اور سابق فوجی افسران شامل ہیں ۔

رپورٹ: عابد حسین ⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس