1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ترکی شاید سن 3000ء تک یورپی یونین کا رکن بن جائے، کیمرون

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ یورپی یونین میں شمولیت کے خواہش مند ملک ترکی کو یونین میں شامل ہونے میں ابھی عشرے لگیں گے۔ کیمرون نے کہا کہ انقرہ شاید سن 3000ء تک اس بلاک کا رکن بن جائے۔

Großbritannien Premierminister David Cameron

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون

لندن سے اتوار بائیس مئی کو موصولہ نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق ڈیوڈ کیمرون نے آج برطانوی نشریاتی ادارے آئی ٹی وی سے نشر ہونے والے اپنے ایک انٹرویو میں کہا، ’’یہ بات تو ابھی دور دور تک ممکن ہوتی نظر نہیں آتی کہ ترکی جلد ہی یورپی یونین میں شامل ہو جائے گا۔‘‘

برطانوی سربراہ حکومت نے کہا کہ عشروں بعد بھی جب کبھی ترکی کا یونین میں شامل ہونا قریب دکھائی دینے لگا، تو برطانیہ کو بھی دیگر رکن ریاستوں کی طرح شاید ترکی کی ممکنہ رکنیت کو ویٹو کرنا پڑے۔ قدامت پسند برطانوی وزیر اعظم نے یہ بات اس لیے بھی کہی کہ برطانیہ میں 23 جون کو لندن کے یورپی یونین میں شامل رہنے یا اس سے نکل جانے کے بارے میں ہونے والے عوامی ریفرنڈم میں یہ بات بھی ایک اہم موضوع بن چکی ہے کہ آیا مستقبل میں ترکی کو اس بلاک کا رکن بنایا جانا چاہیے۔

اپنے ہم وطن ووٹروں کو اس بات کا قائل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہ انہیں آئندہ ماہ کے ریفرنڈم میں برطانیہ کے مستقبل میں بھی یورپی بلاک میں شامل رہنے کے حق میں فیصلہ دنیا چاہیے، ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ وہ خود بھی یہی چاہتے ہیں کہ برطانیہ یونین میں شامل ہی رہے۔

دوسری طرف ترک حکومت کی ان کوششوں کے بارے میں کہ برسلز انقرہ کو یونین میں شامل کرنے سے پہلے کے کئی سالہ مذاکراتی مراحل کو جلد مکمل کرے، برطانوی وزیر اعظم نے کہا، ’’ترکی نے یونین میں رکنیت کی درخواست 1987 میں دی تھی۔ لیکن جس رفتار سے ترکی اپنے لیے اس منزل کے حصول کے لیے پیش رفت کا مظاہرہ کر رہا ہے، لگتا ہے کہ شاید سن 3000ء تک وہ یونین میں شامل ہونے میں کامیاب ہو جائے۔‘‘

Brexit Symbolbild

یورپی یونین سے برطانیہ کے ممکنہ اخراج یا ’برٹش ایگزٹ‘ کو مختصراﹰ ’بریگزٹ‘ کہا جاتا ہے

اپنی اس موقف کے حق میں ٹوری سیاستدان کیمرون نے یہ بھی کہا کہ یونین کے ضابطوں کے تحت، باقی تمام رکن ریاستوں کی طرح برطانیہ کو بھی یہ اختیار حاصل ہے کہ اگر وہ چاہے تو کسی بھی نئے ملک کی یونین میں رکنیت کو ویٹو کر دے۔

اسی پس منظر میں ڈیوڈ کیمرون نے یہ بھی کہا کہ برطانوی ریفرنڈم سے پہلے کی سیاسی مہم میں یونین سے اخراج کی حمایت کرنے والے سیاسی حلقے حقائق کو مسخ کر کے پیش کر رہے ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ ترکی بس یونین میں شامل ہونے ہی والا ہے۔

کیمرون نے زور دے کر کہا، ’’ایسے حلقے اس لیے برطانیہ کے اخراج کی وکالت کر رہے ہیں کہ چونکہ لندن ترکی کی شمولیت کو روک نہیں سکتا، اس لیے اسے خود یونین کو خیرباد کہہ دینا چاہیے۔‘‘ ڈیود کیمرون کے بقول ترکی نہ تو ابھی سے یونین میں شامل ہونے والا ہے اور نہ ہی اپنی اس منزل کے کہیں قریب ہے۔

رائے عامہ کے تازہ جائزوں کے مطابق برطانیہ میں اس وقت قریب 55 فیصد ووٹر اس بات کے حق میں ہیں کہ لندن یورپی یونین میں آئندہ بھی شامل رہے جبکہ قریب 45 فیصد شہریوں کی رائے یہ ہے کہ برطانیہ کو اس یورپی اتحاد کو خیرباد کہہ دینا چاہیے۔

DW.COM