1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

ترکی سے مہاجرین کی یورپ قانونی آمد بھی شروع

ترکی اور یورپی یونین کے مابین طے پانے والے متنازعہ معاہدے کے تحت شامی مہاجرین کی ترکی سے جرمنی آمد بھی شروع ہو گئی ہے۔ جرمن دفتر برائے تارکین وطن و مہاجرین کے مطابق آج سولہ شامی مہاجرین جرمنی کے شہر ہینوور پہنچ گئے ہیں۔

جرمنی کے شہر ہینوور سے ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق ترکی اور یورپی یونین کے مابین طے پانے والے متنازعہ معاہدے کے تحت یونان سے ترکی واپس بھیجے جانے والے ہر شامی مہاجر کے بدلے ایک شامی مہاجر کو یورپ میں قانونی طور پر پناہ دی جائے گی۔

جرمنی آنا غلطی تھی، واپس کیسے جائیں؟ دو پاکستانیوں کی کہانی

پاکستانی مہاجرین کو وطن واپس جانا پڑے گا، ترکی

غیر قانونی طور پر یونان پہنچنے والے تارکین وطن کی ترکی واپسی کا عمل آج سے شروع کر دیا گیا ہے۔ معاہدے کے دوسرے حصے کے تحت ترکی کے کیمپوں میں مقیم شامی مہاجرین کو یورپ منتقل کیا جانا تھا۔ اسی سلسلے میں تین شامی خاندانوں کے سولہ افراد کو آج ترکی سے جرمنی کے شہر ہینوور منتقل کر دیا گیا ہے۔

جرمنی کے وفاقی دفتر برائے تارکین وطن و مہاجرین (بی اے ایم ایف) کے کے اہلکار کورینا ویشر نے ہینوور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ آج سہ پہر شامی مہاجرین کا ایک اور گروپ جرمنی پہنچ جائے گا۔ ویشر نے صحافیوں سے درخواست کی کہ وہ پناہ گزینوں کی نجی زندگی کا احترام کریں۔

ایک صحافی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اس نے جرمنی پہنچنے والے پناہ گزینوں کے اس گروپ کے ہمراہ پانچ بچے بھی دیکھے ہیں۔ نیوز کانفرنس کے دوران مہاجرین مخالف شخص بھی وہاں پہنچ گیا۔ اس شخص نے ایک بینر اٹھا رکھا تھا جس پر تحریر تھا: ’’واپس جاتے جاؤ، مہاجرین کو خوش آمدید نہیں کہا جائے گا۔‘‘

ویڈیو دیکھیے 02:29

’ہم واپس ترکی نہیں جانا چاہتے‘

ویشر نے یہ بھی بتایا کہ جرمنی پہنچنے والے ان شامی مہاجرین کو ابتدائی طور پر صوبہ لوئر سیکسنی کے شہر فریڈلینڈ میں قائم پناہ گزینوں کے ایک عارضی مرکز میں رکھا جائے گا جہاں انہیں روزمرہ کے استعمال کی حد تک جرمن زبان اور قوانین کے بارے میں آگاہی دی جائے گے۔ بعد ازاں انہیں صوبے کے کسی مستقل شیلٹر ہاؤس میں منتقل کر دیا جائے گا۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے افراد اور اداروں کی جانب سے ترکی اور یورپی یونین کے مابین طے پانے والے اس معاہدے کی قانونی اور اخلاقی حیثیت کے بارے میں سوال بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔ مہاجرین کی حمایت کرنے والے افراد نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا ہے کہ ترکی سے یورپ لائے جانے والے مہاجرین کی سیاسی پناہ کی درخواستیں مسترد بھی کی جا سکتی ہیں۔

دوسری جانب جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے ترک وزیر اعظم احمد داؤد آؤلو سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا ہے۔ میرکل کے ترجمان سٹیفان زائبرٹ نے بتایا کہ دونوں رہنماؤں نے تارکین وطن کی واپسی کے بارے میں گفتگو کی اور انہوں نے معاہدے پر مکمل اور کامیاب عمل درآمد کرنے پر اتفاق بھی کیا۔

جرمن وزارت داخلہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ موجودہ معاہدے کے مطابق سولہ سو شامی مہاجرین کو ترک کیمپوں سے جرمنی منتقل کیا جائے گا۔

جرمنی میں اب تک کتنے پاکستانیوں کو پناہ ملی؟

یونان میں پھنسے پاکستانی وطن واپسی کے لیے بیقرار

DW.COM

Audios and videos on the topic