1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

ترکی سے اٹلی: انسانوں کے اسمگلروں کا نیا اور خطرناک راستہ

ترکی سے بحیرہ ایجیئن کے ذریعے یونان اور پھر یونان سے مغربی یورپ پہنچنے کے امکانات کم رہ جانے کے بعد انسانوں کے اسمگلروں نے تارکین وطن کو یورپ پہنچانے کے لیے بحیرہ روم کا طویل راستہ اختیار کرنا شروع کر دیا ہے۔

یورپ کی جانب غیر قانونی مہاجرت پر تحقیق کرنے والے مختلف جرمن اداروں سے تعلق رکھنے والے ماہرین پر مبنی ادارے (جی اے ایس آئی ایم) کا کہنا ہے کہ انسانوں کے اسمگلروں نے بحیرہ روم کے طویل اور خطرناک راستوں کے ذریعے تارکین وطن کو ترکی سے براہ راست اٹلی پہنچانے کے رجحان میں اضافہ ہو رہا ہے۔

دو برسوں میں ایک لاکھ سے زائد پاکستانیوں نے یورپ میں پناہ کی درخواستیں دیں

جرمنی: طیارے آدھے خالی، مہاجرین کی ملک بدری میں مشکلات حائل

ادارے کا کہنا ہے کہ ’’2016ء کے وسط سے لے کر اب تک انسانوں کے اسمگلروں نے بحیرہ روم کے سمندری راستوں کے ذریعے مہاجرین کو ترکی سے براہ راست اٹلی پہنچانے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔‘‘

اعداد و شمار کے مطابق ان اسمگلروں نے صرف گزشتہ برس کے دوران ترکی سے اٹلی کی جانب 59 کشتیاں روانہ کیں جن کے ذریعے 3846 پناہ کے متلاشی افراد کو اٹلی پہنچایا گیا۔ اس خطرناک سمندری راستے کے ذریعے یورپ پہنچانے کے رجحان میں گزشتہ برس کے وسط سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ 2015ء کے پورے سال کے دوران وسطی بحیرہ روم کے ان راستوں کے ذریعے 2741 پناہ گزین ترکی سے اٹلی پہنچے تھے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مارچ 2016ء میں ترکی اور یورپی یونین کے مابین ڈیل طے پانے کے بعد ترکی سے یونان پہنچنے اور بعد ازاں بلقان کی ریاستوں سے گزرتے ہوئے مغربی یورپ پہنچنے کے راستے تقریباﹰ بند ہو چکے ہیں۔ اسی وجہ سے اسمگلروں نے متبادل راستے اختیار کرنا شروع کر رکھے ہیں۔

رپورٹوں کے مطابق زیادہ تر اسمگلروں کا تعلق یوکرائن سے ہے اور وہ غیر قانونی مہاجرت کے لیے بادبانی کشتیوں کا استعمال کرتے ہیں۔ ان راستوں کے ذریعے اٹلی کا رخ کرنے والے زیادہ تر تارکین وطن کا تعلق شام، افغانستان اور عراق سے ہے۔

پچھلے برس جنوری کے مہینے میں پینتیس کشتیاں لیبیا کے ساحلوں سے بحیرہ روم کے راستے  اٹلی پہنچی تھیں۔ مجموعی طور پر جنوری 2016ء میں اٹلی میں 4292 پناہ گزینوں کو رجسٹر کیا گیا تھا جو غیر قانونی طور پر سمندری راستوں کے ذریعے اٹلی پہنچے تھے جب کہ اسی دورانیے میں یونان پہنچنے والے پناہ گزین کی تعداد صرف گیارہ سو رہی تھی۔

جی اے ایس آئی ایم نے اپنی تحقیق میں کچھ ایسے رجحانات کی نشاندہی بھی کی ہے جن کے بارے میں عام طور پر بہت کم معلومات دستیاب ہیں۔ ماہرین کے مطابق اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ بلقان کی ریاستوں کے ذریعے غیر قانونی ہجرت کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

مثال کے طور پر سن 2015 کے اواخر سے لے کر اب تک ہنگری کے سکیورٹی اداروں نے سربیا کی سرحد سے غیر قانونی طور پر ہنگری میں داخل ہونے والے 1039 نوجوان مرد تارکین وطن کو گرفتار کیا جن کی اکثریت کا تعلق افغانستان سے تھا۔

’جو جتنی جلدی واپس جائے گا، مراعات بھی اتنی زیادہ ملیں گی‘

جرمنی میں پناہ کی تمام درخواستوں پر فیصلے چند ماہ کے اندر

DW.COM