ترکی دھمکیاں دینے کی بجائے مسائل حل کرے، یورپی کمیشن | مہاجرین کا بحران | DW | 28.11.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

ترکی دھمکیاں دینے کی بجائے مسائل حل کرے، یورپی کمیشن

یورپی کمیشن کے سربراہ ژاں کلود ینکر نے کہا ہے کہ ترک رہنماؤں کو رکنیت کے اب تک ناکام رہنے والے مذاکرات کی ناکامی کا الزام یورپی یونین پر عائد کرنے کی بجائے سوال خود سے پوچھنا چاہیے۔

 ترک رہنماؤں کو رکنیت کے اب تک ناکام رہنے والے مذاکرات کی ناکامی کا الزام یورپی یونین پر عائد کرنے کی بجائے سوال خود سے پوچھنا چاہیے۔

یورپی کمیشن کے سربراہ ینکر نے ہفتے کے روز کہا کہ ترک صدر رجب طیب ایردوآن کو خود غور کرنا چاہیے کہ ترکی اب تک یورپی یونین کا رکن کیوں نہیں بن سکا۔ ینکر کا یہ بیان فریقین کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کے تناظر میں سامنے آئے ہے۔ اس سے قبل ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا تھا کہ اگر یورپی یونین نے ترکی کو دھمکانے کا سلسلہ جاری رکھا تو مہاجرین کے لیے ترک سرحدیں کھول دی جائیں گی۔

گزشتہ ہفتہ یورپی پارلیمان نے اپنی ایک قرارداد میں یورپی کمشین کو تجویز دی تھی کہ وہ ترکی کی رکنیت سے متعلق جاری بات چیت اس وقت تک منجمد کر دے، جب تک انقرہ حکومت ملک میں ’نامناسب اقدامات‘ روک نہیں دیتی۔

ینکر نے بیلجیم کے اخبار لا لیبرے سے بات چیت میں کہا، ’’رجب طیب ایردوآن، جنہیں میں ایک طویل عرصے سے جانتا ہوں، کی جانب سے حالیہ اقدامات، یہ اشارے دے رہے ہیں جیسے ترکی کسی قیمت پر یورپی یونین کی رکنیت پر آمادہ نہیں۔‘‘

Griechenland Flüchtlingsunterkünfte (picture-alliance/dpa/O. Panagiotou)

ترکی نے دھمکی دی ہے کہ وہ مہاجرین کے لیے اپنی سرحدیں کھول سکتا ہے

ان کا مزید کہنا تھا، ’’میں نے محسوس کیا ہے کہ ایردوآن اور ان کی حکومت رکنیت کے مذاکرات کی مکمل ناکامی سے قبل الزامات یورپ پر لگانے کی کوشش میں ہیں۔‘‘

ینکر نے مزید کہا، ’’یورپی یونین اور یورپی کمیشن پر الزامات عائد کرنے سے قبل ایردوآن کو خود سے پوچھنا چاہیے کہ ترک باشندوں کے یورپی ممالک کے ویزہ فری سفر کی اجازت نہ ملنے کے ذمہ دار کہیں وہ خود ہی تو نہیں۔‘‘

یہ بات اہم ہے کہ رواں برس مارچ میں یورپی یونین اور ترک حکومت کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت انقرہ حکومت کو پابند بنایا گیا تھا کہ وہ اپنے ہاں سے مہاجرین کو بحیرہء ایجیئن کے راستے یورپی یونین میں داخلے سے روکے، جب کہ اس کے عوض دیگر مراعات کے علاوہ ترکی سے وعدہ کیا گیا تھا کہ اس کے شہریوں کو شینگن ممالک کے ویزہ فری سفر کی اجازت دی جائے گی۔ تاہم معاہدے کی اس شق پر عمل درآمد نہ ہو سکا۔

ترکی میں رواں برس جولائی میں ناکام فوجی بغاوت کے بعد جاری سخت ترین حکومتی کریک ڈاؤن میں سرکاری ملازمین کے علاوہ میڈیا اداروں کی بندش کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں، جس پر یورپی یونین تحفظات کا اظہار کر رہی ہے۔ یورپی یونین کا موقف ہے کہ ترکی میں جب تک انسانی حقوق کی صورت حال بہتر نہیں ہو جاتی، ترک شہریوں کو شینگن ممالک کے ویزہ فری سفر کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔