1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ترکی: جمہوریت کے حق میں حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں کی ریلی

ترک شہر استنبول میں حکومت کی حامی اور اپوزیشن قوتیں حالیہ ناکام فوجی بغاوت کے پس منظر میں جمہوریت کے حق میں ایک مشترکہ ریلی نکال رہی ہیں۔ اس بغاوت کے باعث اقتدار پر صدر رجب طیب ایردوآن کی گرفت اور بھی مضبوط ہو گئی ہے۔

Türkei Erdogan Unterstützer in Istanbul auf dem Taksim Platz

استنبول کے تقسیم چوک میں ہونے والی اس ریلی کا مقصد جمہوریت کی بھرپور تائید و حمایت کرنا ہے

اس بغاوت کے دوران کم از کم دو سو چھیالیس افراد ہلاک اور دو ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے۔ نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق عموماً حکومت کے حامی دھڑے اور اپوزیشن جماعتیں ایک دوسرے کے سخت خلاف ہیں لیکن ناکام فوجی بغاوت کے بعد اب یہ دونوں فریق ہر طرح کی جماعتی وابستگی سے بالاتر ہو کر استنبول کے تقسیم چوک میں اس بڑی ریلی کا اہتمام کر رہے ہیں۔ اس ریلی کے شرکاء یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ سب جمہوریت کی بساط لپیٹنے کے لیے کی جانے والی ہر طرح کی کوششوں کے جواب میں متحد ہیں۔

DW.COM

ریلی منظم کرنے والی سیکولر اپوزیشن جماعت CHP کے نائب سربراہ انجین الطے نے کہا، ’ناکام بغاوت نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ جمہوریت اور ہر طرح کی آزادیاں کتنی قیمتی ہیں‘۔ اُنہوں نے کہا کہ اتوار کی شام کی ریلی میں اُن کی جماعت کے تمام 133 اراکینِ پارلیمان بھی شریک ہوں گے۔ حکمران جماعت AKP کی طرح اپوزیشن CHP نے بھی اس تناظر میں فوجی بغاوت کی حالیہ کوشش کی فوری طور پر مذمت کی تھی کہ گزشتہ ساٹھ برسوں میں ترکی میں چار بار فوجی مداخلت ہو چکی ہے۔ آخری بار ایسا 1980ء میں ہوا تھا، جب سیاست دانوں اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنےوالے افراد کی ایک بہت بڑی تعداد کو گرفتاریوں، جبر و تشدد اور موت کی سزاؤں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

مسلح افواج کے ایک حصے کی طرف سے ہونے والی ناکام بغاوت کے پس منظر میں ترکی کی فضائی افواج کے سربراہ نے ایک غیر معمولی بیان جاری کرتے ہوئے ملٹری جنرل سٹاف کی ’مکمل فرماں برداری‘ پر زور دیا ہے۔

دوسری طرف چیف آف ملٹری جنرل سٹاف خلوصی اکار نے، جنہیں پندرہ جولائی کی رات باغیوں نے یرغمال بنا لیا تھا، اتوار کو باغیوں کو ’وردی میں ملبوس بُزدل‘ قرار دیا، جنہوں نے فوج اور قوم کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

Türkei Erdogan Unterstützer in Istanbul auf dem Taksim Platz

اس ریلی کے شرکاء یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ سب جمہوریت کی بساط لپیٹنے کے لیے کی جانے والی ہر طرح کی کوششوں کے جواب میں متحد ہیں

صدر ایردوآن کے ناقدین اس بغاوت کے بعد ہنگامی حالت کے نفاذ کو مخالفین کے خلاف بلا امتیاز کریک ڈاؤن کی ایک کوشش قرار دے رہے ہیں۔ ساٹھ ہزار سے زیادہ افراد کو، جن میں فوج اور پولیس کے اہلکاروں کے ساتھ ساتھ جج، اساتذہ اور سرکاری افسران بھی شامل ہیں، معطل یا گرفتار کیا جا چکا ہے یا اُن کے خلاف تحقیقات ہو رہی ہیں۔

وزیر اعظم بن علی یلدرم نے وعدہ کیا ہے کہ بغاوت میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار تقریباً تیرہ ہزار افراد کو، جن میں تقریباً نو ہزار فوجی بھی شامل ہیں، منصفانہ عدالتی کارروائی کی سہولت دی جائے گی۔