1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ترکی توانائی کے شعبے میں روسی تعاون ختم کر سکتا ہے، ایردوآن

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے روسی طیاروں کی جانب سے ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ملک روس سے گیس کی خرید روک سکتا ہے۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے دھمکی دی ہے کہ وہ ترکی روس کو چھوڑ کر دیگر ممالک سے بھی گیس خرید سکتا ہے اور جوہری پلانٹ کی تیاری میں بھی دوسرے ممالک سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔

گزشتہ ویک اینڈ پر روسی لڑاکا طیاروں نے دو مرتبہ ترک فضائی حدود کی خلاف ورزی کی، جب کہ ترک F-16 طیاروں کو بھی شام میں نصب میزائل نظام کے ذریعے دھمکایا گیا۔

اپنے دورہ جاپان کے لیے پرواز سے قبل صحافیوں سے بات چیت میں ایردوآن نے کہا، ’ہم موجودہ صورت حال برداشت نہیں کر سکتے۔ فضائی حدود کی خلاف ورزی سے متعلق روسی وضاحتیں اطمینان بخش نہیں ہیں۔‘

Russland Moskau Sukhoi Su-34 Kampfjet Sukhoi T-50 PAK FA Demonstrationsflug

روسی طیاروں نے ویک اینڈ پر دو مرتبہ ترک فضائی حدود کی خلاف ورزی کی

یہ بات اہم ہے کہ روس نے شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف لڑنے والی باغی گروپوں کے خلاف فضائی کارروائیوں کا آغاز کر رکھا ہے اور ان کارروائیوں کی وجہ سے شام میں حکومتی فورسز اور باغیوں کے درمیان عسکری توازن بشارالاسد کی حامی فورسز کی جانب جھک چکا ہے۔

روس ترکی کو قدرتی گیس سپلائی کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے، جو ترک کو درکار 50 بلین کیوبک میٹر میں سے 28 تا 30 بلین کیوبک میٹر گیس مہیا کرتا ہے، جب کہ باقی گیس ایران اور آزربائیجان سے ترکی کو ملتی ہے۔

ترکی نے سن 2013ء میں روسی سرکاری ادارے روس ایٹم کے ساتھ 20 ارب ڈالر مالیت کا معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت یہ روسی ادارہ ترکی میں 12 سو میگاواٹ کا جوہری توانائی پلانٹ تعمیر کرے گا۔ ترکی کے اس پہلے جوہری توانائی پلانٹ کی تعمیر کے کام کی حتمی تاریخ کا تاہم اب تک اعلان نہیں ہو سکا ہے۔

صحافیوں سے بات چیت میں ایردوآن نے کہا، ’کچھ معاملات پر روس کو سوچنا چاہیے۔ اگر روس اکُویو (جوہری پلانٹ) تعمیر نہیں کرے گا، تو کوئی اور کر لے گا۔‘

انہوں نے مزید کہا، ’ہم روسی گیس کے سب سے بڑے خریدار ہیں۔ ترک کو کھونا روس کے لیے ایک بڑا نقصان ہو گا۔ ترکی قدرتی گیس بہت سے دیگر جگہوں سے حاصل کر سکتا ہے۔‘

ترک صدر کے اس بیان پر فی الحال روس کی جانب سے کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم اس سے قبل ترک فضائی حدود کی خلاف ورزی پر ماسکو حکومت کا کہنا تھا کہ ایسا خراب موسم کی وجہ سے ہوا تھا، جو ایک غلطی تھی۔