1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ترکی تحمل کا مظاہرہ کرے، امریکا اور یورپی یونین

ترک فضائیہ شمالی عراق میں کرد باغیوں کے خلاف حملے جاری رکھے ہوئے جبکہ ترکی میں باغیوں کے ایک تازہ حملے میں مزید دو فوجی لقمہ اجل بن گئے ہیں۔

امریکا اور یورپی یونین نے انقرہ حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ باغیوں کے خلاف اپنے حملوں میں طاقت کا مناسب استعمال کرے۔ ترک فضائیہ گزشتہ ایک ہفتے سے شمالی عراق میں کردستان ورکرز پارٹی PKK کے باغیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔

شمالی عراق میں ترک فضائیہ کی کارروائیوں کی وجہ سے مغربی ممالک کے تحفظات بڑھتے جا رہے ہیں۔ دریں اثناء کرد باغیوں کے ایک تازہ حملے میں دو مزید ترک فوجی مارے گئے ہیں۔ انقرہ حکومت نہ صرف شمالی عراق میں کرد باغیوں پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے بلکہ ساتھ ہی شام میں فعال انتہا پسند گروہ اسلامک اسٹیٹ کے جہادیوں پر بمباری کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ تاہم ابھی تک زیادہ تر کارروائیاں کرد باغیوں کے خلاف ہی کی گئی ہیں۔

انقرہ حکومت نے بتایا ہے کہ شمالی عراق میں کی جانے والی فضائی کارروائیوں میں اب کم از کم دو سو ساٹھ کرد باغی ہلاک ہو چکے ہیں۔ گزشتہ ایک ہفتے میں ترک لڑاکا طیاروں نے شمالی عراقے میں درجنوں سینکڑوں فضائی حملے کیے ہیں۔

دوسری جانب کردوں کے حامی میڈیا کا الزام ہے کہ ترک حملوں میں عام شہری بھی ہلاک ہو رہے ہیں۔ کرد میڈیا کے مطابق گزشتہ ویک اینڈ پر ترک طیاروں کی بمباری میں ایک گاؤں میں آٹھ عام شہری مارے گئے۔ تاہم ترک فوج نے اس الزام کی تردید کی ہے۔

یورپی یونین کے کمیشنر برائے توسیع ژوہانس ہان نے اس صورت حال پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی حالت میں ترک حکومت اور کردوں کے درمیان گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری تنازعے کے پرامن حل کی راہ میں کئی طرح کی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔

ہان کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق ترکی کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے، ’ترکی کو ہر طرح کی دہشت گردی سے نمٹنے کا پورا حق حاصل ہے۔‘ یہ بات اہم ہے کہ یورپی یونین PKK کو دہشت گرد گروہوں کی فہرست میں رکھتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کوئی بھی عسکری کارروائی کرتے ہوئے یہ سامنے رکھنا چاہیے کہ وہ ’طاقت کا حد سے زیادہ‘ استعمال نہ کیا جائے۔

Türkei Dogubeyazit Anschlag PKK

کرد باغیوں کے ایک تازہ حملے میں دو مزید ترک فوجی مارے گئے ہیں

دوسری طرف واشنگٹن میں اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان مارک ٹونر نے بھی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ انقرہ حکومت کو کرد باغیوں کے خلاف اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم چاہتے ہیں کہ PKK تشدد کا راستہ ترک کر دے اور مذاکرات کی میز پر آ جائے۔ ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ ترکی اس تناظر میں مناسب ردعمل ظاہر کرے۔‘‘