1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ترکی اور روس مزید اسٹریٹیجک قربت کے خواہش مند

ترکی اور روس اس بات کے خواہش مند ہیں کہ انقرہ اور ماسکو کے مابین اسٹریٹیجک پارٹنرشپ کو مزید وسعت دی جانا چاہیے۔ اس بارے میں اتفاق رائے ترک صدر ایردوآن کی روسی ہم منصب پوٹن کے ساتھ ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو میں ہوا۔

Russland Türkei - Präsidenten Putin & Erdogan in Sotschi (Reuters/A. Zemlianichenko)

ترک صدر ایردوآن، بائیں، کے مئی کے شروع میں دورہ روس کے موقع پر لی گئی روسی صدر پوٹن کے ساتھ ایک تصویر

روسی دارالحکومت ماسکو سے ہفتہ ستائیس مئی کو ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق صدر ولادیمیر پوٹن کی سرکاری رہائش گاہ کریملن کی طرف سے بتایا گیا کہ روسی صدر نے اپنے ترک ہم منصب رجب طیب ایردوآن کے ساتھ ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو میں اتفاق کیا کہ ماسکو اور انقرہ دونوں ہی کی خواہش ہے کہ ان کے مابین اسٹریٹیجک پارٹنرشپ کو مزید وسعت دی جائے۔

سمندر کے نیچے روس سے ترکی تک گیس پائپ لائن کی تعمیر شروع

پوٹن ایردوآن ملاقات، ساری کدُورتیں جاتی رہیں

امریکا اور روس کے بیچ ترکی ’سینڈوِچ‘ بنتا ہوا

کریملن کے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق دونوں صدور نے اپنی اس بات چیت میں ان گزشتہ دوطرفہ معاہدوں پر بھی تبادلہ خیال کیا، جن کا مقصد روس اور ترکی کے باہمی اقتصادی روابط میں ابھی تک موجود رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔

اس کے علاوہ دونوں رہنماؤں نے اپنی اس بات چیت میں توانائی کے شعبے میں ان بڑے مشترکہ یا کثیرالملکی منصوبوں پر بھی تبادلہ خیال کیا، جن میں روس سے لے کر ترکی تک قدرتی گیس کی پائپ لائن بچھانے کا منصوبہ ’ٹرک اسٹریم‘ (TurkStream) اور ’اکُویُو‘ (Akkuyu) پروجیکٹ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

Russland Türkei - Präsidenten Putin & Erdogan in Sotschi (Reuters/A. Zemlianichenko)

اس سال تین مئی کے روز ترکی اور روس کے صدور روسی شہر سوچی میں ملے تھے

ماسکو اور انقرہ گزشتہ کئی مہینوں سے اپنے تعلقات کو دوبارہ پوری طرح معمول پر لانے کی کوششوں میں ہیں۔ یہ دوطرفہ روابط نومبر 2015ء میں اس وقت انتہائی کشیدہ ہو گئے تھے جب ترک فضائیہ نے ترک شامی سرحد کے قریب ایک روسی جنگی طیارے کو مار گرایا تھا۔

اس کشیدگی کے بعد سے دونوں ممالک کے صدور کی ایک سے زائد ملاقاتیں ہو چکی ہیں اور ترک روسی روابط کافی حد تک معمول پر آ چکے ہیں تاہم چند شعبوں میں ترک مصنوعات کی روس میں درآمد پر ابھی تک پابندیاں عائد ہیں۔

 

DW.COM