1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ترکی اور جرمنی کی کشیدگی، ’اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا‘

اس بات کی توقع تھی کہ ترک صدر رجب طیب ایردوآن صحافیوں کے خلاف انقرہ حکومت کے طرز عمل پر تنقید برداشت نہیں کریں گے۔ ایردوآن نے جرمن روزنامے دی ویلٹ کے زیر حراست صحافی کو ’جاسوس‘ قرار دیا ہے۔

جرمنی اور ترکی کے مابین سفارتی کشیدگی دی ویلٹ کے صحافی ڈینیز یوچیل کی گرفتاری کے بعد مزید بڑھ گئی ہے۔ ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے یوچیل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ جرمنی کے لیے جاسوسی کرتے ہیں،’’ یوچیل جرمن خفیہ ایجنٹ ہے اور وہ کلعدم کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کا نمائندہ ہے۔‘‘ جرمن وزارت خارجہ نے ایردوآن کے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

جرمن قونصل خانے میں پناہ؟

ترک صدر ایردوآن کا خیال ہے کہ اپنی گرفتاری سے قبل یوچیل ایک ماہ تک جرمن سفارت خانے میں چھپے ہوئے تھے۔ تاہم ایردوآن کے اس الزام کو جرمن حکام نے مسترد کرتے ہوئے ’مضحکہ خیز‘ قرار دیا۔ برلن حکومت نے ان تمام جلسے جلسوں کے انعقاد پر پابندی عائد کر دی ہے، جن کا تعلق اس ریفرنڈم سے ہے، جو ایردوآن کے اختیارات میں اضافے کے لیے کرایا جا رہا ہے۔

Recep Tayyip Erdogan Präsident Türkei

رک صدر رجب طیب ایردوآن نے یوچیل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ جرمنی کے لیے جاسوسی کرتے ہیں

انقرہ حکومت چاہتی ہے کہ جرمنی میں ووٹ دینے کے اہل تقریباً ڈیڑھ ملین ترک شہری  سولہ اپریل کو کرائے جانے والے اس ریفرنڈم میں حصہ لیں۔ ترک وزیر انصاف باقر بوزداگ نے جمعرات کو جرمنی میں اسی سلسلے میں ایک جلسے سے خطاب کرنا تھا، تاہم جس کی اجازت نہیں دی گئی۔ بوزداگ نے اسے فاشسٹ رویہ قرار دیا۔

ہالینڈ میں بھی مشکلات

صرف جرمنی میں ہی نہیں بلکہ یورپ کے دیگر ملکوں میں بھی اس ریفرنڈم کی حمایت میں ترک سیاستدانوں کو جلسہ یا خطاب کرنے میں مشکلات حائل ہیں۔ اس کی مثال ہالینڈ کی ہے، جس کے وزیر اعظم مارک رٹے نے کہا کہ ہالینڈکسی دوسرے ملک کی انتخابی مہم کی جگہ نہیں ہے۔ ترک  وزیر خارجہ مولود چاوش اولو گیارہ مارچ کو روٹرڈیم میں اسی تناظر میں ایک خطاب کرنے والے تھے۔

جرمن وزیر خارجہ گابریل کا ٹیلیفون

ترکی اور جرمنی کے مابین موجودہ تناؤ جرمن وزیر خارجہ زیگمار گابریل کے لیے بھی یہ ایک مشکل امتحان ثابت ہو سکتا ہے۔ گابریل اس سفارتی کشیدگی کو کم کرنے کی کوششوں میں ہیں۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے اپنے ترک ہم منصب مولود چاوش اولوسے ٹیلیفون پر بات کی۔ انقرہ حکومت کے ذرائع نے بتایا کہ اگلے بدھ کو یہ دونوں وزرائے خارجہ ایک دوسرے سے ملاقات کریں گے۔