1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ترکی اور اسرائیل کے کشیدہ تعلقات

غزہ کے لئے بحری امدادی قافلے پراسرائیلی فوج کے حملے کے بعد پہلی مرتبہ ترک اوراسرائیلی حکام کے مابین ایک اعلیٰ سطحی ملاقات ہوئی ہے۔

default

ترک وزیرخارجہ احمد دعوتگلو

بدھ کے دن اسرائیلی وزیرتجارت بنیامین فواد بن الیعازراورترک وزیرخارجہ احمد دعوتگلو کے مابین یہ خفیہ ملاقات برسلز میں ہوئی۔

ترک حکام نے بعد ازاں اس ملاقات کی تصدیق کر دی تاہم کہا کہ فریقین کے مابین کسی بات پر بھی سمجھوتہ نہیں ہو سکا۔ غزہ کے لئے بحری امدادی قافلے پر31 مئی کو اسرائیلی کمانڈو حملے کے نتیجے میں کم ازکم نو ترک امدادی کارکن ہلاک ہو گئے تھے۔

اس حملے کے بعد اسرائیل کے اہم مسلم ساتھی ملک ترکی نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔ ترکی نے نہ صرف اسرائیل سے اپنا سفیر واپس بلوا لیا بلکہ مشترکہ فوجی مشقیں بھی منسوخ کردیں اور اسرائیلی فوجی طیاروں کے لئے اپنی فضائی حدود بھی بند کردی ہے۔

Boote im Meer von Gaza Flash-Galerie

غزہ امدادی قافلے پر اسرائیلی کمانڈو ایکشن کے نتیجے میں نو ترک امدادی کارکن ہلاک ہوئے

ترک حکام نےاسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات دوبارہ معمول پر لانے کے لئے اسرائیل کو اس واقعہ پرمعافی مانگنا ہو گی، غزہ امدادی قافلے میں شامل متاثرہ افراد کو زر تلافی ادا کرنا ہو گا اورغزہ کی ناکہ بندی ختم کرنے کے علاوہ اس واقعہ کی غیرجانبدارنہ تحقیقات کے لئے اقوام متحدہ کو اجازت دینا ہوگی۔

برسلزمنعقدہ اس ملاقات کے بعد جعمرات کو ترک وزیرخارجہ احمد دعوتگلونے اپنی شرائط کے تناظر میں کہا کہ انقرہ حکومت اس واقعہ پراپنا دباؤ برقراررکھے گی۔ پارلیمان میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا :’’ ہم نے اپنے مطالبات سامنے رکھ دئے ہیں، ہم ہرممکن کوشش کریں گے کہ اپنے مطالبات ہر فورم پر بیان کریں۔‘‘

دوسری طرف اسرائیلی حکومت نے ترکی کے تمام ترمطالبات مسترد کردئے ہیں۔ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ غزہ کی ناکہ بندی توڑنے والے امدادی قافلے پر کارروائی، دراصل اسرائیلی فوج نے اپنے دفاع کے لئے کی تھی۔ اسرائیلی ذرائع ابلاغ میں کہا جا رہا ہےکہ امریکہ کے دباؤ کی وجہ سے اسرائیلی حکومت، ترکی کے ساتھ اعلیٰ سطحی مذاکرات پر تیار ہوئی۔

امریکہ کی کوشش ہے کہ ان دونوں ممالک کے تعلقات ایک مرتبہ دوبارہ معمول پرآجائیں کیونکہ واشنگٹن حکومت کا خیال ہےکہ مشرق وسطی کے سیاسی منظر نامے پر ان دونوں ممالک کا کردارنہایت اہم ہے اورمختلف تنازعات کے خاتمے کے لئے یہ دونوں ممالک بااثر ثابت ہو سکتے ہیں۔ امریکہ صدر باراک اوباما نے اتوار کےدن ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوآن سے ملاقات کی تھی جبکہ چھ جولائی کو وہ اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو سے بھی ملاقات کررہے ہیں۔

Benjamin Netanjahu Porträtfoto

اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو

دوسری طرف اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ غزہ کے لئے امدادی سامان تقسیم کرنا شروع کر دیا گیا ہے۔ یہ وہ امدادی سامان ہے جواس بحری قافلے میں لے جایا جا رہا تھا، جس پر اسرائیلی کمانڈوز نےحملہ کیا تھا۔ اقوام متحدہ کی طرف سے جمعرات کو جاری کی گئی ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ امدادی سامان کی پہلی کھیپ، بدھ کو زمینی راستے سےغزہ پہنچا دی گئی۔

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ اُس کا عملہ غزہ کے باسیوں میں امدادی سامان پہنچانے کی نگرانی کر رہا ہے اور آئندہ کچھ ہفتوں کے دوران تمام امدادی سامان غزہ میں تقسیم کردیا جائے گا۔ خیال رہے کہ حملے کے بعد اسرائیل نے اس امدادی سامان پر قبضہ کر لیا تھا۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: عابد حسین

DW.COM