1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ترکی اور آرمینیا کے درمیان برف پگھل گئی

ترکی اور آرمینیا کے درمیان بہتر سفارتی تعلقات کے قیام کے لئے کوششیں تیز ہو گئیں ہے۔ دونوں ملکوں نے چھ ہفتوں پر محیط مشاورت کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد ان کے پارلیمان ووٹ کے ذریعے فیصلہ کریں گے۔

default

آرمینیا کے صدر سیرگے سارگسیئن اپنے ترک ہم منصب عبداللہ گُل کے ساتھ

Türkei Armenien Präsident Abdullah Gül besuchr armenische Ruine

عبداللہ گُل ترک۔آرمینیا سرحد کے دورے کے موقع پر

دونوں ملکوں نے تعلقات میں بہتری کے لئے روڈ میپ کا اعلان رواں برس اپریل میں کیا تھا۔ تاہم پیر کو سامنے آنے والے نئے اعلان کو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بحالی کے لئے اٹھایا جانے والا ’’پہلا عملی قدم‘‘ قرار دیا جا رہا ہے۔

ترکی اور آرمینیا کے وزرائے خارجہ کا کہنا ہے کہ سیاسی مشاورتوں کا عمل چھ ہفتوں میں مکمل ہوگا۔ اس دوران دو پروٹوکول طے پائیں گے، جنہیں بعدازاں توثیق کے لئے دونوں ملکوں کی پارلیمانوں کو بھیج دیا جائے گا۔

سوئٹزرلینڈ کی ثالثی میں مذاکرات کے بعد جاری کئے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ فریقین معاہدوں کی بروقت تکمیل کے لئے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ ترکی نے آرمینیا کے ساتھ اپنی سرحد انیس سو ترانوے میں بند کر دی تھی تاہم معاہدوں کے دو ماہ بعد یہ سرحد کھول دی جائے گی۔

03.2009 DW-TV European Journal Serie Europe's Eastern Neighbours Armenia

ترکی نے آرمینیا کے ساتھ اپنی سرحد بند کر دی تھی

اُدھر امریکہ نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ تعلقات کی بحالی غیرمشروط اور مناسب وقت میں ہونی چاہئے۔ واشنگٹن انتظامیہ نے دونوں ممالک کے اس حوالے سے تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی ہے اور کہا ہے کہ یہ ایک تاریخی پیش رفت ہے، جس سے خطے میں امن و سلامتی اور استحکام آئے گا۔

ترکی اور آرمینیا کے تعلقات گزشتہ کئی دہائیوں سے کشیدہ چلے آ رہے ہیں۔ دونوں ریاستوں کے مابین سفارتی تعلقات نہیں ہے اور سرحدیں بھی بند ہیں۔ آرمینیا سلطنت عثمانیہ کوپہلی عالمی جنگ کے دوران اپنے ہزاروں باشندوں کے قتل کا ذمہ دار تصور کرتا ہے۔ آرمینیا کے علاوہ کئی یورپی ممالک اور امریکہ اسے نسل کشی قرار دیتے ہیں تاہم ترکی اس دعوے کو مسترد کرتا ہے۔ امریکہ اور یورپی یونین انقرہ حکام پر زور دیتی ہیں کہ وہ ان ہلاکتوں کو نسل کُشی تسلیم کرے۔

یہی تنازعہ یورپی یونین میں شمولیت کے لئے انقرہ کی کوششوں کی راہ میں حائل ایک بڑی رکاوٹ بھی ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: گوہر نذیر گیلانی