1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

ترقی یافتہ ممالک کو ذمہ داری نبھانا ہو گی، میرکل

بون میں موسمیاتی تبدیلیوں کے موضوع پر جاری اجلاس کے تناظر میں جرمن چانسلر میرکل نے کہا کہ ہر ملک کو عالمی حدت میں اضافے کو روکنے کے لیے اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہو گی۔ ان کے بقول اس سلسلے میں فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے اپنی ہفتہ وار پوڈ کاسٹ میں کہا کہ موسمیاتی تبدیلیاں فوری طور پر حل کیا جانا ایک مسئلہ ہے اور ہر ملک کو چاہیے کو زمینی حدت کو دو ڈگری سیلسیئس یا بہتر ہے کہ 1.5 ڈگری تک محدود رکھنے میں مدد کرے۔ یہ ہدف دو سال قبل پیرس میں تحفظ ماحول کانفرنس میں طے کیا گیا تھا۔

میرکل نے مزید کہا کہ صنعتی طور پر ترقی یافتہ ممالک کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ مستقبل کو نظر میں رکھتے ہوئے ایسی ماحول دوست ٹیکنالوجی تیار کریں، جس سے روز گار کی منڈی کو کوئی نقصان نہ پہنچے، ’’ ہمیں کچھ حاصل نہیں ہو گا کہ اگر اسٹیل و تانبے کے کارخانے اور ایلمونیم پلانٹس ہمارے ملکوں میں بند کرتے ہوئے ایسی ریاستوں میں منتقل کر دیے جائیں، جہاں تحفظ ماحول کے حوالے سے ضوابط سخت نہ ہوں۔ اگر ایسا ہوا تو اس سے ماحولیات کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔‘‘

اس بین الاقوامی اجلاس کے موقع پر تحفظ ماحول کی خاطر سرگرم تنظیموں اور اداروں کی جانب سے مظاہروں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ آج ہفتے کے روز بون میں ہزاروں افراد نے توانائی کے متبادل ذرائع کے استعمال کے فروغ کے حق میں شہر کے مرکزی ریلوے اسٹیشن سے لے کر اقوام متحدہ کے دفتر کی جانب مارچ کیا۔ منتظمیں کو امید تھی کہ آج کے اس احتجاج میں کم از کم پانچ ہزار افراد شریک ہوں گے تاہم پولیس کے مطابق مظاہرین کی تعداد پانچ ہزار سے کافی کم تھی

بون میں جاری اس اجلاس میں 190 ممالک کے ہزاروں نمائندے شرکت کر رہے ہیں۔ اس دوران 2015ء میں پیرس میں طے پانے والے معاہدے کو عملی شکل دینے کے موضوع پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔

ویڈیو دیکھیے 00:45

بون شہر رنگارنگ روشنیوں سے جگ مگا اٹھا

DW.COM

Audios and videos on the topic

ملتے جلتے مندرجات