1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ترقی پذیر ممالک میں بڑھتی ہوئی بھوک

ایک بین الاقوامی غیر سرکاری ادارے نے خبردار کیا ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں بھوک کی وجہ سے سالانہ 450 بلین ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔

default

ایکشن ایڈ نامی ادارے نے یہ انکشاف منگل کو شائع ہونے والی اپنی تازہ رپورٹ میں اس وقت کیا ہے، جب اقوام متحدہ کی ’ڈویلپمنٹ سمٹ‘ آئندہ ہفتے منعقد ہو رہی ہے۔

بین الاقوامی امدادی ادارے ایکشن ایڈ نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ بھوک کی وجہ سے ترقی پذیر ممالک میں ترقی کی شرح بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ کام کرنے کی صلاحیت میں کمی، خراب صحت اور تعلیم کی کمی میں کم خوراکی ایک اہم کردار کرتی ہے۔ اس تازہ رپورٹ کے اجراء پر ایکشن ایڈ کے چیف ایگزیکٹو Joanna Kerr نے کہا،’’ اس وقت بھوک کے خلاف جنگ، اسے نظر انداز کرنے کے بدلے میں دس گنا سستی پڑے گی۔‘‘

اس رپورٹ میں ایسے اٹھائیس ممالک کا بغور مطالعہ کیا گیا، جہاں بھوک میں کمی کے لئے سن 2015ء کا ہدف رکھا گیا ہے۔ نتائج سے معلوم ہوا ہے کہ اس وقت بھوک کے خاتمے کے لئے جو کوششیں کی جا رہی ہیں، اس کے نتیجے میں کئی ممالک میں مقررہ وقت پر مقررہ اہداف کا حصول ناممکن ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق کئی افریقی ممالک کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی بھوک کے خاتمے کے لئے جو منصوبہ جات چلائے جا رہے ہیں وہ قطعی ناکافی ہیں۔ ایکشن ایڈ کے مطابق زرعی شعبے میں سرمایہ کاری کی کمی، دیہی ترقی، کسانوں کے لئے کم مراعات اور قانونی پیچیدگیاں ایسے مسائل ہیں، جن کے نتیجے میں کئی ترقی پذیر ممالک کم خوارکی پر کنٹرول پانے میں ناکام ہو رہے ہیں۔

Hungernot in Uganda Flash-Galerie

کئی افریقی ممالک میں بھوک ایک بحرانی صورتحال اختیار کرتی جا رہی ہے

بین الاقوامی امدادی ادارے نے عالمی برداری سے مطالبہ کیا ہے کہ وقت کی اس اہم ضرورت کے لئے سیاسی عزم ظاہر کیا جائے۔ ادارے نے کہا ہے کہ امیر ترین ممالک اپنے وعدے پورے کریں۔ گزشتہ سال اٹلی میں منعقد ہوئی جی ایٹ سمٹ کے دوران امیر ترین ممالک کےگروپ نے دنیا میں بھوک کے خاتمے لئے بائیس بلین ڈالر کی مالی امداد دینے کا وعدہ کیا تھا تاہم ابھی تک اس رقم کی دستیابی کے حوالے سےکوئی خاص پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔

آئندہ ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی ایک اہم سمٹ میں ملینیم ڈویلپمنٹ گولز کے حصول کے سلسلے میں کی جانے والی کوششوں کا جائزہ لیا جائے گا۔ ہزاریہ اہداف کا پہلا ہدف غربت اور بھوک میں کمی کرنا ہے تاہم سن 2015ء تک عالمی سطح پر پائی جانے والی غربت میں نصف کمی کا ہدف پورا ہوتا نظر نہیں آ رہا۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM