1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ترقیاتی امور کے وفاقی جرمن وزیر افغانستان پہنچ گئے

ترقیاتی امور کے وفاقی جرمن وزیر ڈِرک نیبل پاکستان کے بعد آج اتوار کو افغانستان کے ایک سرکاری دورے پر کابل پہنچ گئے۔ ایشیائی ملکوں کے اِس دورے پر یورپی یونین کے ترقیاتی امور کے کمشنر آندرس پیبالگز بھی اُن کے ہمراہ ہیں۔

جرمن وزیر ڈِرک نیبل

جرمن وزیر ڈِرک نیبل

نیبل اور پیبالگز آج کل ایشیا کے کئی روزہ دورے پر ہیں، جس میں وہ افغانستان سے پہلے پاکستان میں تھے۔اُن کے وفد میں بچوں کی بہبود کے عالمی ادارے یونیسیف کی سفیر اور جرمن ٹیلی وژن کی مشہور میزبان زابینے کرسٹیانسن بھی شامل ہیں۔

یہ وفد افغانستان کے دورے کے دوران وہاں کی سول سوسائٹی کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ صدر حامد کرزئی کے ساتھ بھی ملاقات کرے گا۔ آج سہ پہر ڈِرک نیبل افغانستان کے وزیر خزانہ عمر زخیل وال کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔ اس ملاقات میں افغانستان کے لیے 110 ملین یورو کی جرمن ترقیاتی امداد کی اگلی قسط کے اجراء کی تفصیلات طے کی جائیں گی۔ اب تک یہ قسط روک کر رکھی جا رہی ہے اور کابل کے اس دورے کے دوران افغان حکام پر واضح کیا جائے گا کہ اس امداد کے ساتھ کچھ شرائط بھی منسلک ہیں۔

اس نکتے کی وضاحت کرتے ہوئے ڈِرک نیبل نے کہا:’’ہم یہ واضح کرنا چاہتےہیں کہ ہم اس سلسلے میں بہت سنجیدہ ہیں اور مسلسل رابطے میں رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ ایک بالکل نئی چیز ہے۔ افغانستان میں لوگ ابھی اس سے اتنے واقف نہیں۔ تاہم اس کا مقصد انہیں یہ تحریک دینا ہے کہ وہ اپنے وہ اہداف تیزی کے ساتھ حاصل کریں، جو بصورتِ دیگر وہ کئی برسوں میں حاصل کرتے، مثلاً بدعنوانی کے خلاف جنگ۔‘‘

یورپی یونین کے ترقیاتی امور کے کمشنر آندرس پیبالگز

یورپی یونین کے ترقیاتی امور کے کمشنر آندرس پیبالگز

جرمنی نے افغانستان کے لیے اپنی غیر فوجی امداد کو دو گنا کر دیا ہے اور سن 2010ء تا 2013ء اِس ملک کے لیے سالانہ 430 ملین یورو مختص کیے ہیں۔ اس طرح جرمنی یورپ بھر سے افغانستان کو امداد فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔

ڈِرک نیبل اور آندرس پیبالگز جرمن اور یورپی ترقیاتی منصوبوں کا معائنہ کرنے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں۔ ترقیاتی امور کی وفاقی جرمن وزارت کے مطابق نیبل نے کہا ہے کہ اپنی ترقیاتی سرگرمیوں کے ذریعے جرمنی نے زبردست کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ محض 2009ء سے لے کر اب تک 30 ہزار سے زیادہ افراد کو آمدنی کے بہتر مواقع تک رسائی کے لیے معیشت کے مختلف شعبوں میں تربیت فراہم کی گئی۔ مزید یہ کہ جرمن افغان ترقیاتی تعاون کی مدد سے چھوٹے قرضے فراہم کیے جاتے ہیں، جن سے اب تک تقریباً 43 ہزار افراد مستفید ہو چکے ہیں۔

یونیسیف کی سفیر اور جرمن ٹیلی وژن کی مشہور میزبان زابینے کرسٹیانسن

یونیسیف کی سفیر اور جرمن ٹیلی وژن کی مشہور میزبان زابینے کرسٹیانسن

مزید بتایا گیا ہے کہ فراہمیء آب کی نئی سہولتوں کی تعمیر یا پرانی سہولتوں کی مرمت کی وجہ سے 26 ہزار سے زیادہ گھرانوں کو صاف ستھرا پانی دستیاب ہو رہا ہے۔ مختلف صوبوں میں ایک لاکھ سے زیادہ گھراوں کو پینے کے صاف پانی تک رسائی فراہم کی گئی ہے۔

ان ترقیاتی منصوبوں کی وساطت سے پرائمری اور ہائی اسکولوں کی 28 ہزار سے زیادہ اُستانیوں اور اُستادوں کو جبکہ پیشہ ورانہ اسکولوں کے 250 اساتذہ کو تربیت فراہم کی گئی ہے۔

جرمنی کے علاوہ دیگر یورپی ممالک بھی افغانستان کو امداد فراہم کر رہے ہیں لیکن ان یورپی ملکوں کے درمیان کوئی پیشگی روابط اور منصوبہ بندی نہ ہونے کے باعث مختلف ملک زیادہ تر ایک ہی شعبے میں امداد فراہم کرتے رہتے ہیں۔

آندرس پیبالگز کا کہنا ہے:’’خاص طور پر اقتصادی بحران کے دوران ہم یہ ضمانت نہیں دے سکتے کہ اس طرح کے منصوبوں کے لیے ہمارے پاس ہمیشہ پیسہ موجود ہو گا۔ چنانچہ ہمیں مل کر ایسی مؤثر منصوبہ بندی کرنا ہو گی کہ اُس کے ٹھوس نتائج برآمد ہوں۔ ہم مل کر کام کریں گے تو زیادہ اثر بھی ڈال سکیں گے۔‘‘

ڈِرک نیبل اور آندرس پیبالگز کے اس مشترکہ دورہء ایشیا کی آخری منزل بنگلہ دیش ہے۔ اِس وفد کا یہ کئی روزہ دورہ 24 جون کو اپنے اختتام کو پہنچے گا۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس