1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

تحفظ ماحول اور اوباما کی سوچ

تحفظ ماحول کے سلسلے میں امریکی صدر کئی اقدامات میں اہم فیصلوں کے خواہشمند ہیں۔ اس سلسلے میں اُن کی جانب سے سابقہ بُش انتظامیہ کے مقابلے میں انتہائی امید افزاء بیانات سامنے آ چکے ہیں۔

default

ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے مظاہرہ کرنے والے افراد اوباما کے دورہ یورپ کے موقع پر امریکی صدر سے اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں

اقوام متحدہ کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان میں سے ایک اہم چیلنج زمین کی بڑھتی ہوئی حدت ہے۔ صتعتی ملکوں کی جانب سے گزشتہ کئی سالوں سے کارخانوں کی چمنیوں سے فضا کو آلودہ کرنے والے دھوئیں کے اخراج میں کمی پر تحفظات تھے۔ آسٹریلیا بھی سابق وزیراعظم کے دورمیں کیوٹو پروٹول پر دستخط کرنے سے انکاری تھا۔ اِس فہرست میں چین اورامریکہ بھی شامل ہیں۔ کیوٹو پروٹول کے حوالے سے اوباما کا مؤقف سامنے آ چکا ہے کہ امریکہ کی جانب سے اُس پر پہلے دستخط نہ کرنا ایک غلطی تھی لیکن اب یہ معاہدہ ختم ہونے والا ہے اور نئے معاہدے کی تشکیل میں امریکہ پیش پیش ہوگا۔ اِس سے واضح ہوتا ہے کہ سابق صدر بش کے مقابلے میں اوباما نے ایک جداگانہ پالیسی کو اپنایا ہے۔

Tschechische Republik Greenpeace

اوباما کے دورپ جمہوریہ چیک کے موقع پر پراگ میں ایک بینر پر اس حوالے سے فوری اقدامات کے مطالبات درج ہیں

گرم ہوتے ماحول کے بعد قطب شمالی میں پگھلتی برف سے بھی تشویش عام ہے۔ حال ہی میں ایک برفانی پٹی کے ٹوٹنے پر امریکی وزیرخارجہ ہیلری کلنٹن کی جانب سے بھی تشویش سامنے آئی ہے۔ انہوں نے قطب شمالی اور جنوبی میں سیاحت کو کنٹرول کرنے کا مطالبہ پیش کیا ہے۔ کلنٹن کے خیال میں قطب شمالی میں سیاحوں سے بھرے بحری جہازماحولیاتی آلُودگی کا سبب بن رہے ہیں۔ یہ امراہم ہے کہ سن اُنیس سو نوے کے مقابلے میں اب برفانی براعظم کی سیاحت میں پانچ گنا کا اضافہ ہو چکا ہے۔ بعض اوقات قطب شمالی میں گئے بحری جہازوں کو برف میں پھنس جانے کی وجہ سے ہنگامی بنیادوں پر دوسرے جہازوں کو بھی روانہ کرنا پڑتا ہے۔ گزشتہ چارماہ کے دوران دو مرتبہ امدادی کارروائیاں کی گئی تھیں۔ کئی ملک اور کمپنیاں برفانی براعظم میں تیل اور گیس کی تلاش کی منصو بہ بندی کر چکے ہیں۔

جرمن شہر بون میں اقوام متحدہ کی تحفظ ماحول کانفرنس میں آخری روزتک کسی بڑی پیش رفت کو حاصل کرنے میں سگ و دو جاری رہی۔ کئی ملکوں کی جانب شدید نوعیت کے اعتراض سامنے آچکے ہیں جیسے کہ سعودی عرب کا کہنا ہے کہ اگر توانائی کے استعمال میں تیل کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے شمسی توانائی کو فروغ دیا جاتا ہے تو اُن کی بقا کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ یہ اوربات ہے کہ سعودی عرب میں کئی حضرات شمسی توانائی کے مرکز قائم کرکے اِس کو کمرشل سطح پر متعارف کروانے کی پلاننگ کرچکے ہیں۔