1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

تحفظ ماحول: اب زیادہ سے زیادہ عمر رسیدہ افراد بھی سرگرم

یورپ بھر میں رواں سال کو رضاکارانہ کاموں کے سال کے طور پر منایا جا رہا ہے۔ تحفظ ماحول کے لیے نوجوان نسل تو بھرپور طریقے سے کوشاں ہے ہی لیکن اب زیادہ سے زیادہ عمر رسیدہ افراد بھی ماحول کے تحفظ کے لیے سرگرم ہو رہے ہیں۔

default

یہ جرمن شہر ڈسلڈورف ہے، جہاں ’پچاس سال سے زیادہ کی عمر کے کارکنوں‘ کی پانچ رُکنی ٹیم نے سڑک کے کنارے اپنا سٹال لگا رکھا ہے۔ اِس ٹیم کا تعلق بنیادی طور پر گرین پیس سے ہے، جس کا شمار دُنیا بھر میں تحفظ ماحول کے لیے کوشاں بڑی تنظیموں میں ہوتا ہے۔ بڑی عمر کے یہ کارکن پاس سے گزرنے والوں کو جینیاتی تکنیک، ایٹمی توانائی اور گہرے سمندروں میں تیل کی کھدائی جیسے موضوعات کے بارے میں بتانے اور اُن میں معلوماتی کتابچے تقسیم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یہاں موجود گنٹرم اینگلن سیربے کہتے ہیں:’’ہمارے پاس صرف یہی ایک ز مین ہے۔ اِسی لیے مَیں یہ سوچتا ہوں کہ ہمیں اسے سنبھال کر رکھنا چاہیے۔ یہ ہمارا فرض ہے۔ ہمارا کام اِسے تباہ کرنا نہیں ہے۔‘‘

Greenpeace Demonstration in Düsseldorf

جرمن شہر ڈسلڈورف کی سڑکوں پر ’اُستوائی جنگلات کے بچاؤ کے لیے‘ مہم کا ایک منظر

تحفظ ماحول کے لیے کوشاں یہ کارکن لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن کم ہی لوگ ماحول سے متعلقہ موضوعات میں دلچسپی ظاہر کرتے ہیں۔ بڑی عمر کے اِن کارکنوں کو بھی یُوں سڑک کے کنارے سٹال لگانے کے مقابلے میں زیادہ مزہ تب آتا ہے، جب وہ مثلاً ٹیکسوں کی رقوم کی فضول خرچی کے خلاف احتجاج کے لیے ریونیو آفس کے سامنے فٹ پاتھ کو توڑ دیتے ہیں یا اُن بینکوں کے سرخ قالینوں پر تیل پھینک دیتے ہیں، جو تیل کی تلاش کے لیے گہرے سمندروں میں کھدائی کے منصوبوں کو مالی وسائل فراہم کرتے ہیں۔

ان کارکنوں کا تعلق اُس نسل سے ہے، جو لامحدود ترقی اور اَشیائے صرف کی مسلسل بڑھتی ہوئی مانگ پر یقین رکھتی تھی۔ ان کارکنوں کے بچپن کے زمانے میں زہریلے مادے دریاؤں میں بہا دیے جاتے تھے اور مختلف طرح کے تیزاب سمندروں میں پھینک دیے جاتے تھے۔

Umweltsenioren Umweltmagazin

ہائنز مائی باؤم اور ہائنز ٹُفرز نے پچیس سال پہلے قدرتی ماحول کے تحفظ کا مرکز قائم کیا تھاجسے ہر سال ہزاروں افراد دیکھنے کے لیے جاتے ہیں

آج لیکن اِن میں سے ایک کارکن پیٹر شُلس کہتے ہیں:’’ہم قدرتی ماحول کے ساتھ جو کچھ کر رہے ہیں، وہ سراسر نا انصافی ہے۔ فطرت آگے سے مزاحمت کرے بھی تو کیسے۔ مخصوص فائدوں کے لیے جانوروں کی پوری کی پوری نسلیں مٹائی جا رہی ہیں۔ مجھے یہ سب کچھ برا لگتا ہے۔‘‘

رضاکارانہ طور پر کام کرنے والی اِسی ٹیم میں 70 سال سے زیادہ کی عمر کے ہائنز مائی باؤم اور 80 سال سے اوپر ہائنز ٹُفرز بھی شامل ہیں، جنہوں نے پچیس سال پہلے قدرتی ماحول کے تحفظ کا مرکز قائم کیا تھا۔ ہر سال ہزاروں افراد اِس مرکز میں آتے ہیں، جہاں اُنہیں نہ صرف روایتی زراعت کے مختلف نمونے دیکھنے کو ملتے ہیں بلکہ وہ جنگلی پھولوں، جانوروں، جڑی بوٹیوں، تتلیوں اور حشرات کو بھی قریب سے دیکھ پاتے ہیں اور یوں خود کو فطرت کے بہت قریب محسوس کرتے ہیں۔

رپورٹ: کارین لمزفُس / امجد علی

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس