1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

تحفظ ماحولیات اور ماحول دوست سیاسی جماعتوں کا کردار

جرمنی میں ماحول دوست سیاسی جماعت گرین پارٹی کی کامیابی کے بعد اب کئی دیگر ممالک میں ایسی پارٹیاں بنائی جا رہی ہیں جو پالیسی سازی میں ماحول دوست اقدمات کے لئے لابیئنگ کر سکیں۔

default

جرمن گرین پارٹی کی فعال رکن کلاوڈیا روتھ

آج سے تیس برس قبل جب جرمنی میں گرین پارٹی وجود میں آئی تھی تو اس وقت شائد کم لوگوں کو ہی علم تھا کہ یہی پارٹی جرمن سیاسی منظر نامے میں ایک اہم سیاسی جماعت کے طور پر ابھر سکے گی۔ ماحولیات سے متعلق موضوعات پراس پارٹی کے مؤقف نےکافی ستائش بٹوری۔ یورپ سے باہر کسی دوسرے براعظم میں بہرحال صورتحال مختلف ہے۔ وہاں یا تو گرین پارٹیوں کا کوئی وجود نہیں ہے اور ایسی کوئی پارٹی ہے بھی تو سیاسی منظر نامے پر اس پارٹی کوئی خاص اہمیت حاصل نہیں ہے۔ مثال کے طور پر براعظم افریقہ میں ماحولیات کے موضوعات پر کام کرنا صرف سول سوسائٹی کا ہی کام سمجھا جاتا ہے۔

افریقہ میں سول سوسائٹی کے ایک فعال کارکن کُومی نیاڈو گرین پیس انٹرنیشنل کے نئے سربراہ ہیں۔ نیاڈو افریقہ میں گرین انقلاب کے لئے کام کرہے ہیں۔ گرین پیس انٹرنیشنل کے پہلے افریقی سربراہ کومی نیاڈو کا اولین مقصد ہے کہ دنیا کے دوسرے سب سے بڑے جنگل کو محفوظ بنایا جائے۔ کانکو Basin نامی یہ جنگل عوامی جمہوریہ کانگو میں واقع ہے۔ یہ جنگل نہ صرف چالیس ملین سے زائد افراد کو روزگار کے مواقع فراہم کررہا ہے بلکہ اس جنگل میں چمپانزی اورگوریلا کے علاوہ کوئی 270 بچے دینے والے اہم جانور بھی بستے ہیں۔

Kumi Naidoo wird Greenpeace Chef

کومی نیاڈو

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہی جنگل ماحولیاتی تبدیلیوں کو روکنےکے لئے بھی ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔کانگو Basin جنگل دنیا میں کاربن کا چوتھا بڑا reservoir بھی ہے۔

کومی اس جنگل کو محفوظ بنانے کے علاوہ دیگر ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے کے لئے بھی کام کرتے ہیں۔ یورپ میں کومی جیسے کارکنان سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہتے ہیں تاہم افریقہ میں صورتحال مختلف ہے۔کومی نیاڈو کہتے ہیں: ’’ میرے خیال میں افریقہ میں ماحول دوست سیاسی پارٹیوں کا نظریہ ابھی تک نیا ہے۔ جب ہم یہاں کی گرین جماعتوں کا موازنہ یورپی پارٹیوں سے کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے ابھی آغاز ہی کیا ہے۔ افریقہ میں چھوٹی سطح پر کئی تنظیمیں ماحولیات کے تحفظ کے لئے کام کر رہی ہیں اور یہ اہم بھی ہے، لیکن اس مسئلے کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے ہمیں اپنے کام کو مزید موثر بنانے کے لئے ابھی کافی کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘

نیاڈوکے مطابق انسانی حقوق اور ماحولیات کے تحفظ کے لئے کی جانے والی کوششوں میں بہت زیادہ مماثلت ہے۔ نیاڈو کے بقول کئی مثالوں کے تحت غربت، بے روزگاری اور انسانی حقوق کی پامالی کی ایک وجہ ماحولیاتی آلودگی بھی ہے۔

افریقہ ایک ایسا براعظم ہے جو ماحولیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہو رہا ہے۔ عالمی درجہ حرارت میں اضافہ اور بارش میں کمی کی وجہ سے افریقہ کے کئی علاقے خشک سالی کا شکار ہیں۔ اور ایسے علاقے میں جہاں لوگوں کی ایک بڑی تعداد کا روزگار زراعت سے منسلک ہو، وہاں ایسی تبدیلیوں سے نہ صرف لوگ بے روزگار ہو رہے ہیں بلکہ نتیجتاً مختلف سماجی برائیاں پیدا ہو رہی ہیں۔

نیاڈوکے مطابق جہاں لوگ اپنی بقاء کی جنگ میں مصروف ہوں وہاں ماحولیاتی تبدیلیوں کے موضوعات ثانوی حیثیت اختیار کر جاتے ہیں، اس بات سے الگ کہ یہی ماحولیاتی تبدیلیاں ان کی پریشانیوں کا موجب ہیں۔ اس لئے نیاڈو کہتے ہیں کہ افریقہ میں غریب عوام تک یہ پیغام بہتر طریقے سے پہنچایا جانا چاہئے کہ ماحولیاتی تبدیلیاں اور ان کا روزگار دو الگ مسائل نہیں بلکہ ایک ہی ہیں۔

Costa Rica

تحفظ ماحولیات میں جنگلات ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں

نیاڈوکہتے ہیں : ’’ انسانی حقوق کی پامالی اور غربت جیسے مسائل فوری طور پر توجہ حاصل کرلیتے ہیں۔ اگرکوئی غریب شخص ہے یا کسی کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے تو اسے آپ فورا ہی دیکھ لیتے ہیں۔ لیکن ماحولیاتی تبدیلیوں کا مسئلہ فوری طور پر آنکھ سے نہیں جانچا جا سکتا۔ یہ آہستہ آہستہ اپنا اثر دکھاتا ہے۔ تاہم ہم اس مسئلے کو مقبول طریقے سے لوگوں تک پہنچا سکتے ہیں۔ ہم غربت کی چکی میں پسنے والوں کو یہ احساس دلا سکتے ہیں کہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹتے ہوئے وہ اپنی غربت ختم کر سکتے ہیں۔‘‘

نیاڈوانقلابی انداز اختیار کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’’ ہم ایسی دنیا میں رہنا چاہتے ہیں جہاں غریب اور امیر، ممالک کے مابین برابری اور مساوات ہو۔ ایسی دنیا میں جہاں انسان، حیوان اور نباتات کی زندگی میں برابری ہو۔ مثال کے طور پر جنگلات اور درختوں کو صرف اس لئے نہ بچایا جائے کہ ہم اسے پسند کرتے ہیں بلکہ یہ کام اس لئے کیا جانا چاہئے کیونکہ اس دنیا کے پھپھڑوں کو بچایا جا سکے۔‘‘

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM