1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تحریک انصاف کے تقریباﹰ پندرہ سو کارکن گرفتار

عمران خان کے اسلام آباد کو بند کرنے کے اعلان نے وفاقی حکومت اور خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کے درمیان سرد جنگ چھیڑ دی ہے۔ اسلام آباد میں سیاسی درجہء حرارت گرم اور اپوزیشن کارکنوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ نون نے الزام عائد کیا ہے کہ پرویز خٹک اس مسئلے کو لسانی رنگ دے رہے ہیں جب کہ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ حکومت نے عدالتی احکامات کو نظر انداز کرتے ہوئے پر امن کارکنان کو گرفتار کیا ہے۔ پی ٹی آئی کو آج ایک بڑا دھچکا اُس وقت لگا جب اسلام آباد ہائی کورٹ نے یہ واضح احکامات دیے کہ اسلام آباد کو بند نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے پی ٹی آئی کے وکیل سے کہا کہ وہ متعین کردہ جگہ پر احتجاج کریں اور پر امن طور پر منتشر ہوجائیں۔ پی ٹی آئی نے عدالت کے حکم کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ کیا۔ بعد میں پی ٹی آئی کے رہنما اسد عمر نے کہا کہ پارٹی کے پاس انٹرا کورٹ اپیل اور سپریم کورٹ جانے کا راستہ کھلا ہوا ہے۔
عمران خان نے آج کارکنان کا حوصلہ بڑھانے کے لیے پش اپس لگائے، اس کے علاوہ بنی گالا میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ، ’’میں عدلیہ سے کہتا ہوں کہ آپ بھی ٹرائل پر ہیں۔‘‘
شام کو عمران خان نے ایک بار پھر کارکنان سے خطاب کیا۔ عمران خان نے کہا کہ پولیس خواتین کارکنان کے ساتھ بہت بدسلوکی کر رہی ہے جب کہ کئی کارکنان کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے پولیس والوں کا مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ نواز چلا جائے گا لیکن تم لوگوں کو یہی رہنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پارٹی پر ظلم کر رہی ہے۔

نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق ابھی تک تحریک انصاف کے تقریباﹰ پندرہ سو کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ نون لیگ کے رہنما زعیم قادری نے ڈی ڈبلیو کو بتایا،’’یہ پروپیگنڈہ ہے کہ ہم نے ہزاروں افراد کو گرفتار کیا ہے۔ ہم نے پنجاب میں صرف ایک سوچھبیس پی ٹی آئی کارکنان کو گرفتارکیا ہے۔ عدالت نے فیصلہ دے دیا ہے کہ پر امن طریقے سے جلسہ کریں۔ اسلام آباد کو بند کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اگر پی ٹی آئی کوئی پر امن جلسہ کرنا چاہتی ہے تو پرویز خٹک سمیت کوئی بھی اسلام آباد یا پنجاب میں داخل ہوسکتا ہے لیکن اگر پرویز خٹک اسلام آباد کو بند کروانے کے لئے آئیں گے تو ان کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کیا جائے گا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ یہ بڑی افسوس ناک بات ہے کہ پرویز خٹک اس کو پختون پنجابی مسئلہ بنا کر پیش کر رہے ہیں، ’’پی ٹی آئی کو صرف انیس فیصد ووٹ ملے ہیں۔ یہ تو سارے پختونوں کے بھی نمائندے نہیں ہیں تو پھر یہ کیسے اس طرح کے دعوے کر سکتے ہیں۔ پختون محبِ وطن ہیں اور وہ کسی ایسی سازش کا حصہ نہیں بنیں گے، جس کا مقصد ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنا ہو۔‘‘
انہوں نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ فوج اور حکومت کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں،’’اس طرح کی خبریں ملک دشمن عناصر پھیلا رہے ہیں۔ ہمارے فوج کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں۔‘‘
علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے سابق پروفیسرامان میمن نے کہا، ’’پچھلے دھرنے کے برعکس اس مرتبہ حکومت نے اپنے پتے بڑی مہارت سے کھیلے۔ اُس نے پی ٹی آئی رہنماوں اور کارکنان کی گرفتاریاں کیں اور اپنی رٹ کو قائم کرنے کی کوشش کی۔ عدالت کے فیصلے نے بھی پی ٹی آئی کو نقصان پہنچایا۔ اس کے علاوہ طاہر القادری کی عدم شرکت نے بھی اس دھرنے کو پھیکا کر دیا۔ عمران خان کے کارکنان میں وہ دم خم نہیں ہے جو قادری کے پیروکاروں میں تھا۔ عمران کے چاہنے والے تفریح و میوزک کے لئے آتے ہیں۔ اُن کی قادری کے چاہنے والوں کی طرح کوئی نظریاتی تربیت نہیں ہے۔‘‘


ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’عمران خان نے دس لاکھ بندے لانے کا دعویٰ کیا تھا لیکن اگر دس ہزار لوگ بھی اس مرتبہ اکٹھے ہوجائیں تو بڑی بات ہوگئی۔ حکومت کے سخت اقدامات نے لوگوں کی شرکت کو مختصر کر دیا ہے اور یہ اقدامات اس لئے کئے گئے کہ ایسی خبریں آرہی تھیں کہ جہادی و فرقہ وارانہ تنظیموں کے افراد بھی بڑی تعداد میں اس دھرنے میں شرکت کریں گے اور گڑ بڑ پھیلانے کی کوشش کر یں گے۔‘‘
حضرو کے مقام پر پی ٹی آئی کے ہزاروں کارکنان نے کے پی کے کے وزیرِ اعلیٰ کے ہمراہ اسلام آباد کی طرف آنے کی کوشش کی۔ پولیس نے ان مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کا استعمال کیا لیکن پی ٹی آئی کے کارکنان پیچھے نہیں ہٹے اور بالاخر انہوں نے آخری رکاوٹ کو بھی دور کر دیا۔ مظاہرین نے کئی گاڑیوں کو بھی نظرِ آتش کیا۔ حکومت نے پہلے ہی موٹر وے اور جی ٹی روڈ کے راستے بند کر دیے ہیں تاکہ مظاہرین اسلام آباد نہ پہنچ سکیں لیکن پرویز خٹک کے ساتھ آنے والے کارکنان اپنے ساتھ کرینیں اور بھاری مشنری بھی لائے تھے، جس کی مدد سے انہوں نے ان کنٹینرز کا ہٹایا اور اپنا سفر اسلام آباد کی طرف جاری رکھا۔
بنی گالا پر آج کارکنان کا جوش و خروش عروج پر تھا۔ شمالی وزیرستان سے آئے ہوئے مستان خان نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’جب تک نواز شریف استعفیٰ نہیں دیتا میں واپس نہیں جاوں گا۔ ہم اس کرپٹ حکومت کا خاتمہ کرنے آئے ہیں۔‘‘
ملتان سے آنے والی ایک خاتون رابعہ ملک نے بتایا، ’’ہمارے سینکڑوں کارکنان کو گرفتار کیا جا چکا ہے جب کہ جگہ جگہ ناکے لگا کر تلاشی لی جارہی ہے۔ ہم ملک کی تقدیر بدلنے آئے ہیں اور اس کو بدل کر ہی جائیں گے۔ حکومت کچھ بھی کر لے عوام کا سمندر اسلام آباد ضرور پہنچے گا۔ ‘‘